مشکاۃ القرآن 2

شرح وتفسير سورة المدثر surah, Al-muddathir,

  يَٰأَيُّہَا ٱلۡمُدَّثِّرُ (١) قُمۡ فَأَنذِرۡ (٢) وَرَبَّكَ فَكَبر(٣) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ (٤) وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ (٥)وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ (٦) وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ (٧) فَإِذَا نُقِرَ فِى ٱلنَّاقُورِ (٨) فَذَٲلِكَ يَوۡمَٮِٕذٍ۬ يَوۡمٌ عَسِيرٌ (٩) عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٍ۬ (١٠) ذَرۡنِى وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيدً۬ا (١١)وَجَعَلۡتُ لَهُ ۥ مَالاً۬ مَّمۡدُودً۬ا (١٢) وَبَنِينَ شُہُودً۬ا (١٣) وَمَهَّدتُّ لَهُ ۥ تَمۡهِيدً۬ا (١٤) ثُمَّ يَطۡمَعُ أَنۡ أَزِيدَ (١٥) كَلَّآ‌ۖ إِنَّهُ ۥ كَانَ لِأَيَـٰتِنَا عَنِيدً۬ا (١٦) سَأُرۡهِقُهُ ۥ صَعُودًا(١٧)  إِنَّهُ ۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ (١٨) فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ (١٩) ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ (٢٠) ثُمَّ نَظَرَ (٢١) ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ (٢٢) ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ (٢٣) فَقَالَ إِنۡ هَـٰذَآ إِلَّا سِحۡرٌ۬ يُؤۡثَرُ (٢٤) إِنۡ هَـٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ(٢٥) سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ (٢٦) وَمَآ أَدۡرَٮٰكَ مَا سَقَرُ (٢٧) لَا تُبۡقِى وَلَا تَذَرُ (٢٨) لَوَّاحَةٌ۬ لِّلۡبَشَرِ (٢٩) 



نوری چادر والے! اٹھیں،اور لوگوں کو ڈرائیں
اپنے پالنہارے کی یوں کبریائی کو بتائیں

رکھیں کپڑے پاک و ستھرا، ہوں بتوں سے یونہی دور
منفعت کے واسطے احسان کرنے سے نفور

اپنے رب، پروردگار و مالکِ کل کے لیے
مصطفیٰ پیارے نبی! اب صبر ہی فرمائیے

صور پھونکا جائے گا جب، سخت تر دن ہوگا وہ
کوئی آسانی ملے گی ہی نہیں کفار کو

چھوڑدیں پیارے!، مجھے اور اس کو جو ہے بدخمیر
جس کو یوں تنہا کیا پیدا، دیا مال کثیر

اس کو ہم نے پاس رہنے والے بیٹے ہیں دیے
ہر طرح کے ساز و ساماں بھی مہیا ہیں کیے

پھر بھی لالچ کرتا ہے اس پر عطائیں ہوں مزید
اب نہیں ہرگز، وہ ہے آیات کا دشمن عنید

میں کہ ہوں جبار تو مجبوری اس پر لاؤں گا
عنقریب اس کو کٹھن چڑھائی پر چڑھاؤں گا

اس نے غور و فکر کی اور طے کی ایسی بات ہے؟
اس پہ ہو پھٹکار، پھر پھٹکار! کیسی بات ہے!

پھر سے دیکھا، منہ بسورا، پلٹا، با کبر ظلام
پھر کہا یہ تو ہے بس جادو اور انسانی کلام

جھونکوں گا دوزخ میں اس کو عنقریب انجام ہے
اور تو کیا جانے دوزخ کس بلا کا نام ہے

جو نہ باقی رکھتی ہے اور چھوڑتی بھی کچھ نہیں
کھال جھلسادینے والی آگ ہے وہ آتشیں

  سحرؔ اورنگ آبادی


0 Comments