میری پیاری ماں

رفعتیں رہتی ہیں ان کے روبرو سجدہ کناں 
حق تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے اعلیٰ عز و شاں 
  
ماں کی عز و شان پر غوث و قطب قربان ہیں 
رشک عظمت پر فرشتوں کو ہے جس کے وہ ہے ماں

 ماں کا آنچل جب مرے سر پر ہوا سایہ کناں 
جنت الفردوس کی آئی ہوا آرامِ جاں

ماں کا ہر ہر عضو مثل نازنیں برگِ  گلاب
سانس ماں کی مشک و عنبر کی ہے بحرِ  بے کراں

ماں کی دونوں آنکھیں، شفقت اور چاہت کے ہیں جام
ہیں نسوں میں شہد کی تازہ تریں نہریں رواں 

ماں کی پلکیں مامتا کی چھاؤں، چھت ہے پیار کی 
واقعی زلفیں ہیں ساون کی گھٹا  جس کی ہے ماں

ماں کے دونوں لب، کہ باب کعبۂ اطہر کے پٹ 
لب ڈلی مصری کی، منہ ماں کا ہے زمزم کا کنواں 

ماں کے پیارے دستِ نازک کعبۂ دل کے ستون 
ماں کے ناخن پیارے پیارے ہیں ہلالِ آسماں 

ماں کی گود آغوش جنت سے نہیں کم بالیقیں 
اور قدم، انگڑائیاں لیتی ہے جنت بھی جہاں 

ماں کا پیکر خالقِ  کل کی حسیں تخلیق ہے 
پھول سے زیادہ ہے نازک خوب تر از کہکشاں 

ماہ و انجم سے حسیں تر عطر سے زیادہ لطیف
آفتابوں سے درخشاں تر ہے میری پیاری ماں

ہاتھ ماں کے اٹھ گئے ساری بلائیں ٹل گئیں 
جنبش لبہائے مادر ہے اجابت کا نشاں 

لیس ہوں ماں کی دعا سے  گردشِ افلاک میں 
سر نگوں ہے میرے آگے ہر بلائے ناگہاں 

بارہا چشمِ فلک حیرت زدہ تکتی رہی
ٹل گئی ماں کی دعا سے کیسے مرگ ناگہاں 

جب کبھی ماں کی دعائیں پہنچی ہیں افلاک پر 
بن گئیں جملہ ملائک کے لیے رشک بیاں 

ماں کی ممتا میں فقط اخلاص ہی اخلاص ہے 
ہے نہ یاں اظہارِ الفت میں بناوٹ کا گماں 

ماں کو پلکوں پر سجا، ماں پیار ہے دل میں بسا 
ذات ماں کی ہے جہاں  الفت ہی الفت ہے وہاں

ماں کی عظمت کو بجا لا کر نبیﷺ بتلا گئے 
غافلو! اب تو سمجھ لو کیا ہے ماں کی قدر و شاں 

خونِ مادر نے پلایا ہے ہمیں جامِ حیات
ورنہ ہم تھے ایک قطرہ بے تن و بے روح و جاں 

ماں کے بطن پاک نے قطرے کو گوہر کر دیا
ماں کی آغوش کرم ہے محورِ امن و اماں 

حق نہ ہو پائے ادا اک قطرہ ماں کے دودھ  کا 
گر چہ ماں کے واسطے تو توڑ لائے کہکشاں 

ہم کو ان کے ہی بدولت اے سحرؔ سب کچھ ہے ملا 
یہ چمن یہ آشیاں یہ پیارا پیارا گلستاں

٭٭٭

0 Comments