لائبریری، علم کی حفاظت و ترسیل کا اعلیٰ ذریعہ: شبیر سحرؔ اورنگ آبادی
اسلام نے ہر مرد و عورت پر علم سیکھنا لازم کیا ہے لہٰذا حصولِ علم اور فروغِ علم میں کوشاں رہنا چاہیے : مولانا محفوظ عالم مصباحی
واقعی علم کو فروغ ہوتا تو انسانیت سوز، ماب لنچنگ جیسے فتنۂ جہالت رونما نہیں ہوتے : مولانا نوشاد احمد نظامی
اس کتب خانہء دھناواں کو- فیض سرکار امجھری کہیے
کوئی پوچھے جو اس کا سال قیام - "خانہ عشق سرمدی" کہیے: عروسؔ فاروقی
رپورٹ : ضلع اورنگ آباد، دھناواں کی سرزمین پر بروز چہارشنبہ 14/اگست 2019ء بمطابق 12/ذوالحجہ 1440ھ کو الکریم لائبریری کی اوپننگ پر علمی افتتاحی پروگرام منعقد ہوا جس میں قرب و جوار کے دانشور حضرات شامل رہے ۔
تمہیدی خطاب مفتی شبیر قادری سحرؔ اورنگ آبادی نے کیا، فرمایا افسوس! کے ہمارے علاقے میں ایک بھی بنام لائبریری کتب خانہ نہیں ہماری حکومت کجا ہم بھی اس پر بالکل متوجہ نہیں ہیں، روز بروز ہوٹل پر ہوٹل کھل رہے ہیں توند بڑھ رہے ہیں لیکن لائبریری کھلنے کا کبھی سننا بھی نصیب نہیں ہوتا آخر ذہن علم سے خالی نہیں ہو تو اور کیا ہو۔ اور فرمایا کہ لائبریری کے قیام کے دو بنیادی مقاصد ہیں ایک حفاظتِ علم، دوسرے ترسیل علم ۔ پہلے پر اسی ذوالحجہ 1440 سے کام شروع ہوچکا ہے جس کے لیے ہم نے الکریم لائبریری لرفاہ العامة لکل الناس1440کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ اور دوسرے یعنی نشر و اشاعت کے لیے الکریم للنشر و التوزیع1441 ان شاءاللہ آنے والے محرم الحرام سے شروع کرنا ہے اور سب سے پہلے الکریم سہ ماہی میگزین نکالی جائے گی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے عروس فاروقی صاحب کا قطعہ تاریخ تاسیس پیش کیا کہ
اس کتب خانہء دھناواں کو- فیض سرکار امجھری کہیے
کوئی پوچھے جو اس کا سال قیام - "خانہ عشق سرمدی" کہیے
ایک اور دوسرے خطیب مولانا محفوظ عالم مصباحی نے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اسلام نے ہر مرد و عورت پر علم سیکھنا لازم کیا ہے لہٰذا حصولِ علم اور فروغِ علم میں کوشاں رہنا چاہیے ۔ اور آخری خطیب مولانا نوشاد احمد نظامی صاحب رفیع گنج نے فرمایا کہ مفتی شبیر صاحب کا بجائے کاروبار بڑھانے کے یہ اقدام قابلِ صد ستائش ہے لہٰذا آپ سب ان کا دامے درہمے قدمے سخنے پورا سپورٹ کریں ٹانگ کھینچنے کی نہ سوچیں بلکہ ہاتھ کھینچ کر اوپر پہنچائیں ۔ نیز فرمایا کہ ابھی جو مفتی صاحب فرمارہے تھے کہ حکومتی سطح پر ہر علاقے میں یا کم از کم ہر ضلع میں لائبریریز ہونی چاہیے تھی اگر ایسا واقعی علم کو فروغ ہوتا تو انسانیت سوز ماب لنچنگ جیسے فتنۂ جہالت رونما نہیں ہوتے ۔ ان کے علاوہ مولانا ندیم اطہر ، حافظ ثقلین حیدر امام و خطیب جامع مسجد رفیع گنج اور حافظ غلام احمد رضا امام و خطیب جامع مسجد دھناواں نے نظما خراج عقیدت پیش فرمایا ۔ ان کے علاوہ اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر تمام اہلیانِ دھناواں شامل رہے۔
اس کتب خانہء دھناواں کو- فیض سرکار امجھری کہیے
کوئی پوچھے جو اس کا سال قیام - "خانہ عشق سرمدی" کہیے
ایک اور دوسرے خطیب مولانا محفوظ عالم مصباحی نے مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اسلام نے ہر مرد و عورت پر علم سیکھنا لازم کیا ہے لہٰذا حصولِ علم اور فروغِ علم میں کوشاں رہنا چاہیے ۔ اور آخری خطیب مولانا نوشاد احمد نظامی صاحب رفیع گنج نے فرمایا کہ مفتی شبیر صاحب کا بجائے کاروبار بڑھانے کے یہ اقدام قابلِ صد ستائش ہے لہٰذا آپ سب ان کا دامے درہمے قدمے سخنے پورا سپورٹ کریں ٹانگ کھینچنے کی نہ سوچیں بلکہ ہاتھ کھینچ کر اوپر پہنچائیں ۔ نیز فرمایا کہ ابھی جو مفتی صاحب فرمارہے تھے کہ حکومتی سطح پر ہر علاقے میں یا کم از کم ہر ضلع میں لائبریریز ہونی چاہیے تھی اگر ایسا واقعی علم کو فروغ ہوتا تو انسانیت سوز ماب لنچنگ جیسے فتنۂ جہالت رونما نہیں ہوتے ۔ ان کے علاوہ مولانا ندیم اطہر ، حافظ ثقلین حیدر امام و خطیب جامع مسجد رفیع گنج اور حافظ غلام احمد رضا امام و خطیب جامع مسجد دھناواں نے نظما خراج عقیدت پیش فرمایا ۔ ان کے علاوہ اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر تمام اہلیانِ دھناواں شامل رہے۔


0 Comments