درندگی، جور و بربریت
کو عدلِ فاروقی کے طمانچے
نہیں لگائے جو تم نے اسوقت
بہت برے آئیں گے نتیجے
یوں اہلِ مسند ہیں گونگے بہرے
یزیدیوں کی صفوں میں شامل
نقابِ بے غیرتی سے منہ کو چھپائے اپنے
اے کوفیوں کب خموشی توڑو گے
کب تک ایسے چھپے، چھپاؤ گے
رب کو منہ تو دکھانا ہوگا
ہاں حشر کے دن
جب اک بہانہ نہ مقبول ہوگا
یہ مسئلہ ایسا مسئول ہوگا
کہ خوں رلائے گی خونریزی پہ یہ خموشی تمہاری اک دن
لہو لہو ہوچکا ہے کشمیر
جنت ارضی جل رہا ہے
ہاں ان کے ہاتھوں جو جانور کے عوض میں انساں کی جاں ہیں لیتے
ہاں ایسے ظالم
جو رام کے نام پر جوانانِ مسلم کا قتل کرتے ہی جارہے ہیں
مگر ابھی بھی
یہ ہند و پاک و حجاز عملاً خموش کیوں ہیں
کوئی نہیں کیا مثالِ قاسم؟
کہیں نہیں ہے نظیرِ طارق ؟
نہیں ہے تمثیلِ ایوبی؟
جب تو
اس امت بازوال کو کب کا مر جانا چاہیے تھا
شکنجہ ظلم میں تڑپتی یہ زندہ کیوں ہے
شکنجہ ظلم توڑ ڈالو
یا اپنی گردن مروڑ ڈالو
ہاں جبر کا سر کچل کے رکھ دو
یا سر کو اپنے ہی پھوڑ ڈالو
درندگی، جور و بربریت
کو عدلِ فاروقی کے طمانچے
نہیں لگائے جو تم نے اسوقت
بہت برے آئیں گے نتیجے
از: م، ش، سحر اورنگ آبادی

0 Comments