پیغامِ امام عالی مقام


اداریہ

 از:محمد شبیرقادری۔۔۔

حسین سرِّ حقیقت کا رازداں تو ہے
رسائی عقل و خرد کی نہیں جہاں تو ہے
حسین آج ضرورت ہے تیری دنیا کو
نوید ِ فتح و ظفر لے کے آ کہاں تو ہے
  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُسينُ مِنِّي وأنا من حُسَينٍ ، أحبَّ اللهُ من أحبَّ حُسَينًا، حُسينُ سِبطٌ من الأسباطِ ۔   رواہ الترمذي (٣٧٧٥)، وابن ماجہ (١٤٤)، وأحمد (١٧٧٩٥)
(ترجمہ: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت رکھے اللہ اس سے محبت رکھے گا، حسین میری اولاد میں سے ہیں ۔)
  حسین عظمت کا نشان،محبت کی پہچان، حقیقت کا ترجمان اور مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی جان ہیں۔ امام عالی مقام علیٰ جدہ وعلیہ السلام نے اپنے نانا جان کے دین متین کی خاطر ایسی مثالی قربانی پیش فرمادی ہے کہ جس کی کہیںنظیر نہیں ملتی ۔ اس مناسبت سے خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ۔   ؎
کارے کہ حسین اختیارے کردی
در گلشنِ مصطفی بہارے کردی
از ہیچ پیمبراں نیاید ایں کار
واللہ! کہ اے حسین! کارے کردی
(ترجمہ :اے امام حسین! آپ نے ایسا کام کیا ہے جس سے گلشن مصطفی میں بہار آگئی اور بخدا! اے امام!آپ نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ کسی پیمبر سے بھی واقع نہ ہوا۔ )
  مولا حسین نے جس طرح دین اسلام کی آبرو بچا کر اہل اسلام پر احسان کیا ہے اس کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ بےشک اگر نبی نہ ہوتے تو دین نہ بنتا اوراگرحسین نہ ہوتے تو دین نہ بچتا۔ رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس دین کو بنایا تھا اس دین کو امام حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لہو سے سینچا اور اپنا سب کچھ لٹاکر اپنے نانا جان ، رحمت عالمیان، جان ایمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے دین کو بچایا ہے۔؎
بلند شان، فلک مرتبہ، امام حسین
سکونِ دیدۂ خیر النساء، امام حسین
سوارِ شانۂ خیر الوریٰ، امام حسین
کجا، یزید ستم گر، کجا، امام حسین
  یزید کے لیے لعنت ہی لعنت ہے اور حسین سراپا رحمت ہی رحمت کہ یزید نفس پرست تھا اور حسین حق پرست، یزید مجسمۂ طغیان تھا اور حسین نمونۂ دین وایمان ، یزید غلیظ پلید تھا اورامام عالی مقام سراپا پاک ، یزید ملعون و مردود تھا اور امام عالی مقام رب کے محبوب    ؎
یزید روز بنایا کرے جہان مگر
حسین ایک بھی مل کر بنا سکا نہ جہاں
  حسینی ہونا اہل حق کی پہچان اور سنیوں کی شان ہے لہٰذا ہر سنی صحیح العقیدہ غلام حسین کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے ۔ اور یقیناً سنیوں کا بچہ بچہ امام عالی مقام کا شیدائی اور سچا عاشق ہے۔ پس  ؎ 
لاکھ گردش ہو مگر وہ قوم مٹ سکتی نہیں
فکر شبیری سے جس نے استفادہ کر لیا
اس کے دل کو خواہش جنت ستاتی ہی نہیں
منتخب جس نے نبی کا خانوادہ کرلیا
مگر صدحیف کہ حسینیت کا ہم زبانی دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اپنے عمل سے اس کی ترديد کرتے نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو امام کے پیغام اور اعمال ممدوحہ سے کوسوں دور اور یزید کے افعال مذمومہ سےزیادہ قریب نظر آتے ہیں۔
  مثلاًامام حسین نے دین کی بنیاد نماز کوکبھی ترک نہیں فرمایا، قرآن کی تلاوت آپ کا خاص مشغلہ تھا کہ سر تن سے جدا ہو کر نیزے پر ہےاس وقت بھی آپ تلاوت قرآن کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ امام حسین کی سیرت ہے اور رہا یزید تو اس کی سوانح کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ جہاں وہ شرابی کبابی تھا وہیں وہ بےنمازی اس درجے کا تھا کہ جب کبھی پھنس جایا کرتا تب پڑھ لیتا ورنہ نماز سے اسے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح وہ ناچ گانے کا شوقین تھا جب کہ تلاوت قرآن  پاک سے کوئی  لگاؤ نہ تھا۔
  اب ہم اپنی حالت دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے کو نماز و قرآن سے تعلق ہے اور کتنے کو ناچ گانے سے۔ تو یہ حقیقت تسلیم کر نی پڑے گی کہ ہم امام حسین کے نام کی تسبیح رانی تو کرتے ہیں، امام عالی مقام کا نعرہ تولگاتے ہیں مولا حسین کے نام کا مالا تو جنپتے ہیں لیکن عملاً ہماری اکثریت یزید کے ساتھ ہے۔ جی ہاں! حق بیانی سے گونگے ہوجانا ، نماز و تلاوتِ قرآن کاذوق نہ ہونا ، ناچ گانے کا شوق ہونا یہ حال تو ہماری اکثریت کا ہے۔ 
    غور طلب مقام ہے کہ ہم امام عالی مقام کو کس طرح دھوکہ د ے رہے ہیں کہ زبان پر تو ان کا نام اقدس ہے اور کام ان کے دشمن یزید کا انجام دیا جارہا ہے۔
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی وہ تاریخ ساز، جاں سوز بات یاد آتی ہے اور جب اپنی حالت پر نظر پڑتی ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے ۔ بعد از کربلا کوفہ والوں کی خاموشی پر امام سجاد زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ : مجھے اتنی تکلیف کربلا میں نہیں ہوئی جتنی کوفہ والوں کے خاموش رہنے پر ہوئی ہے۔ کوفہ ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ایک خاموش امّت کا نام ہے۔ جہاں بھی ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں وہ کوفی ہیں!
آج ظالم حکومت جو مظالم کا ہمالہ کشمیریوں پر ڈھا رہی ہے اور سرآوردہ لوگ نہ صرف گونگے شیطان بنے بیٹھے ہیں بلکہ سعودی تو مودی نواز تک بنا ہوا ہے یہ سب کوفی لایوفی کے زمرے میں نہیں ہیں تو پھر کیا ہیں۔ کہیں بروز حشر یہ یزید پرستی ابدی جہنمی ہونے کا سبب نہ بن جائے ۔ العیاذ بالله
یاد رکھو ! کہ جس سے جس قدر ہو پائے قلمے سخنے سہی آواز اٹھائے  ورنہ یہ بےحسی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔
پیارو! ہوش کے ناخن لو اور اپنی عاقبت اپنے ہاتھوں تباہ نہ کرو۔ آؤ اپنے امام کی بارگاہ میں، آپ کربلا کی سرزمین سے ہمیں درس دے رہے ہیں کہ: اے مسلمانو ! اگر ہماری مصاحبت و رفاقت چاہتے ہو تودیکھ لو ہماری جماعت میں تمہیں کوئی ظلم پر خاموش رہنے والا نہیں ملے گا بلکہ حق و انصاف کی خاطر آخری قطرۂ خون تک بہانے والا ملے گا، کوئی بے نمازی، ناچ گانے کا شوقین نہیں ملے گا ۔ ہم نے تپتی ریت پر بھی سجدہ کو فراموش نہ کیا تم کم ازکم نرم قالینوں پر تو سجدۂ خدا کو فراموش نہ کرو ۔ کہ خدا کی بارگاہ صمدیت میں سر نیاز جھکانا ہی سر بلندی کی ضمانت ہے ورنہ ہرکس وناکس کے در پر سر جھکانے کی علامت ہے ۔      ؎
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
آیئے عدل و انصاف ،حق پسندی، حق بیانی کا ایسا مظاہرہ پیش کریں کہ جسے دیکھنے کے بعد احوالِ دنیا بھی یہ پکار اٹھیں ؎
وقت کے شمر لعیں انجام اپنا سوچ لیں
داستانِ سجدۂ شبیر کا آغاز ہے
  حقیقت میں حسینی وہی ہے جو آپ کےپیغامات و ارشادات پر عمل کرنے کی کوشش میں سر گرم رہےکہ کار خیر میں جد و جہد کرے اور بدکاریوں سے دور و نفور رہے  ۔
  سرکارامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں :
میں دیکھتا ہوں کہ مرجانا شہادت ہے اور ظالموں میں زندگی بسر کرنا ناگوار امر ہے۔ ( تاریخ طبری،4/192)
  اور اےمسلمانو! تمہارا سب سے بڑامہر بان رفیق تمہارا دین ہی ہے بندوں کی نجات دین ہی کی پیروی میں مضمر ہے اور مخالفت میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔ اور یہ سب ہی جانتے ہیں کہ باطل کا پیشوا شیطان لعین ایک حکم نہ ماننے کی وجہ سے ہلاک ہوا۔ اسلام ہی رب ذوالجلال کا پسندیدہ مُہذب مذہب ہے ۔
  لہٰذا اس دین حق پر قائم ہو جاؤ جسے رسول پاک علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے خونِ جگر سے پروان چڑھایا اور جسے امام عالی مقام علیٰ جدہٖ وعلیہ السلام نے اپنی جان نچھاور کرکے محفوظ فرمایا ہے۔  ؎
در نوائے زندگی سوز از حسین
اہل حق حریت آموز از حسین
(ترجمہ : نغمۂ حیات میں سوز و گداز، حسین سے ہے اور اہل حق نے حسین سے ہمیشہ آزادی کا سبق لیا ہے۔)
جی بالکل بلاتمیز مذہب و مسلک۔ مثلاً آپ گاندھی جی،نہرو،شنکراچاریہ وغیرہ کے حسینی پہلو کا مطالعہ کر سکتے ہیں؎
آن دگر مولائے ابرارِ جہان
قوتِ بازوئے احرارِ جہان
  عالم کےپارساؤں کے مولا حسین ہیں، دُنیا میں جتنے بھی حریت پسند لوگ ہیں ان سب کی قوتِ بازو،  حوصلہ، جوش و ولولہ حسین ہیں ۔فبہا حق بیں اور حریت پسند حسینی بنیں اور ہر ظلم و فساد، برے اعمال سے آزاد ہو کر خدائے وحدہ لاشریک کے نزدیک سرخرو ہوجائیں ۔اور قوتِ حسینی کا صدقہ حاصل فرمائیں۔
٭٭٭

رسالہ حاصل کرنے کےلیے رابطہ کریں، ميگزين ممبرشپ کےليے رابطہ کريں: 9004451375/9006696113
alkreem1440@gmail.com

0 Comments