کلمۂ توحید



حدیث:"   مَن قال: لا إلهَ إلّااللهُ دخَل الجنَّةَ"
ترجمہ:جس نے لاالہ اللہ کہا، جنت میں داخل ہوا۔
  عن جابر بن عبدالله: بعَثني رسولُ اللہ ﷺ  فقال:نادِ في النّاسِ مَن قال: لا إلهَ إلّااللهُ دخَل الجنَّةَ، فخرَج فلقِيَه عُمرُ في الطَّريقِ فقال: أين تُريدُ؟ قُلْتُ: بعَثني رسول اللہ ﷺ بكذا وكذا قال: ارجِعْ فأبَيْتُ فلهَزني لَهْزَةً في صدري ألَمُها فرجَعْتُ ولَمْ أجِدْ بُدًّا قال: يا رسولَ اللهِ بعَثْتَ هذا بكذا وكذا؟ قال:نَعم قال: يا رسولَ اللهِ إنَّ النّاسَ قد طمِعوا وخَشُوا فقال صلّى اللهُ عليه وسلَّم:اقعُد. ( صحيح ابن حبان ١٥١ )
عن معاذ بن جبل: قالَ لي رسولُ اللَّهِ صلّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يا معاذُ قلتُ لبَّيكَ يا رسولَ اللَّهِ و سعديكَ  قال :بشِّرِ النّاسَ أو قال أنذرِ النّاسَ من قال لا إلهَ إلّا اللَّهُ دخل َالجنَّةَ. (التوحيد لابن خزیمہ٧٩٨/٢بالاسناد الصحیح)
عن أبي سعيد الخدري:من قال لا إلهَ إلا اللهُ دخل الجنةَ (مجمع الزوائد ١/٢٣)
توضیح:
کلمۂ طیبہ کے دو جز ہیں اول لاالہ الا اللہ دوم محمد رسول اللہﷺ۔ جس طرح لا الہ الا اللہ کہنا اور مانناضروری ہے یونہی محمد رسو ل اللہﷺ لازم ہےکہ بغیر دوسرے جز کے پہلا قابلِ قبول نہیں ۔
آج مذکورہ حدیث پاک کو لیکرکچھ لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جس نے لاالہ الا اللہ کہہ لیا اس کے لیے یہی کافی ہے کہ حدیث پاک میں وارد ہے "من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ" ۔اور اس سے یہ زعم فاسد کرتےہیں کہ محمد رسول اللہﷺ کی کوئی ضرورت نہیں العیاذباللہ رب العلمین۔ ارشاد حدیث حق ہے مگر زعم خبیث کھلا باطل ہے ۔
محدث بریلوی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ کی پیش کردہ تشریح کی روشنی میں یہ بات کہ لا الہ الا اللہ کا کہ لینا جنت لے جانے کو کافی ہے،یہ بات بہت صاف ہوجاتی ہے۔
اول یہ کہ لا الہ الا اللہ کلمۂ طیبہ کا علم ہے اور اس سے مراد پورا کلمہ ہے۔ جیسے کہاگیا الحمدللہ پڑھو ، قل ھو اللہ پڑھو تو اس سے صرف لفظ الحمد للہ اور لفظ قل ھو اللہ ہرگز مراد نہیں بلکہ پوری سورت مراد ہے جن کے اختصاراً یہ نام ہیں اور کلمۂ طیبہ کا اختصار لاالہ نہیں ہوسکتا کہ محض نفی بغیر اثبات کے تو معاذ اللہ کلمہ کفر ہے ،لاجرم نصف کلمہ اختصار ہوا۔ 
یہ ایک ظاہر جواب تھا اور حقیقتِ امر یہ ہے کہ بے شک لا الہ الا اللہ نجات کا ضامن ہے کہ لاالہ الااللہ سے فقط لفظ مراد نہیں بلکہ اسکے معنی کی سچے دل سے تصدیق مرادہے اوریہی ایمان لانا ہے کہ وہ ذات جو جمیع کمالات کی جامع اور جمیع عیوب سے منزہ ہے ۔ وہی ہے جس نے سچی کتابیں اتاری ،سچے رسول بھیجے اور محمد رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو افضل الرسل اور خاتم الانبیاء کیا پس جس نے اللہ عزوجل کواس طرح جانا اسی نے کلمۂ لاالہ الااللہ کو مانا اور جس نے اللہ عز وجل کو ایسانہ جانا اس نے کلمۂ لاالہ الااللہ کو ہر گز نہ مانا ۔مثلاً جو شخص لاالہ الا اللہ پر ایمان کادعوی کرے اور محمد رسول اللہﷺ کو نہ مانے تو گویا اس نے ایسے کو اللہ سمجھ رکھا ہے جس نے محمد رسول اللہﷺ کو نہ بھیجا ۔ اور وہ ہرگز اللہ عز وجل نہیں بلکہ اس نے اپنے خیال میں ایک باطل تصور جمع کرکے اس کا نام اللہ رکھ دیا ہے ۔لہٰذا بایں طورکفر صرف جہل باللہ کا نام ہے اور جو اللہ عز وجل کو صحیح طور پر جانتا اور مانتا ہو وہ کافر نہیں اور جو کافر ہے وہ اللہ کو نہیںجان سکتا اگر چہ کتنا ہی بڑا دعوی علم و معرفت کرتاہو۔
پس جو اللہ عزوجل کو بایں طور مانے وہ کامل مومن ہےاور جو کامل مومن ہےبےشک جنتی ہے۔واللہ اعلم
 سیف اللہ القادری

0 Comments