بحریہ مشاعرہ

بحر جمیل مثمن سالم: افاعیلِ عروضی: مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن



المناجات ا لالہیہ باللغۃ العربیۃ


بفضلہ الاعلیٰ رحمةً رحمةً وجدنا من  الرحیم 
بجاہ ختم الرسالة المصطفیٰ کرمنا من الکریم
   
علامة فی الکوائن کلة علیک و فینا ایضاً 
وجودنا لیست الا انت ای نحن من ذاتک القدیم

فربنا الحفظ والامان قِنا من النقص و البلاء
من الحساب من الکتاب من الصراط من الجحیم

و من سحرؔ ربی القدیر خُذِ الذی فیہ مرضی لک 
بفیض عبد الکریمؔ ارحمنی یا رحیمی و یا کریمی
  
محمد شبیرسحرؔ القادری


نعت رسولﷺ(اردو)

ہے میرے ہاتھوں میں ان کا دامن، مرا مقدر ہے مہکامہکا  
 کھلے ہیں لب پرگل تشکر، کرم کا منظر ہے مہکامہکا

نصیبہ کعبے کا جاگ اٹھا، قمر نبوت کا جوں ہی چمکا
ہے یہ نبی کے قدم کا جلوہ، حرم کا پتھر ہے مہکا مہکا

 فلک کی رونق بہار جنت، فدا ہیں اس پر بنظر حسرت 
فضا منور، ہوا معنبر، در پیمبر ہے مہکا مہکا 

حسین لفظوں کی یہ سجاوٹ ، سخن کے پھولوں کی یہ تراوٹ
 طفیل نعت رسول اکرم، یہ فن کا گوہر ہے مہکا مہکا

 وہی ہیں مرجع سب ان کے سائل، انھیں کی خاطر سجی ہے محفل 
ہے ان کی رفعت کی ہر سو خوشبو، کہ روز محشر ہے مہکا مہکا

نثار اس پر بہار جنت، ہے اس کا بے شک مقام برتر 
وہ اہل ایماں جہاں میں جس کے عمل کا ساگر ہے مہکا 

 مہکا جدھر سے گزری سواری ان کی، ادھر چلی باد عطر بیزی 
رسول کون و مکاں کا قدسیؔ، یوں جسم اطہر ہے مہکا مہکا

سید اولاد رسول قدسیؔ مصباحی


منقبت درشان امام حسین رضی اللہ عنہ(فارسی) 

نہ علم دارم نہ فضل ودانش براے ذکرش دہان باید 
ثناے شبیر من چہ گویم، زبان باید بیان باید

نہ بر سر فرش ہیچ جاے کہ حسب شان حسین بینم 
چنینے شہ را برای مسند دگر جدا آسمان باید 

حسین بر پشت آمدو شد دراز وقفہ میان سجدہ 
براے دوش نبی گرفتن مثال حسنین شان باید 

صغیر شاید مثال اصغر، کند ز خندہ دفاع باطل 
براے سرکوبیِ ضلالت مثال اکبر جوان باید 

اے عصر حاضر چوں ابن حیدر بہ نیزہ بینی ہزارہا سر 
چوں شمر ظالم حریف باید، چوں کربلا امتحان باید 

اے مہرباں از تو ہیچ چیزے بجز لسان و نوا نہ خواہم
کنم ثناے شہید اعظم، زبان سحرالبیان باید

اے ناز شاہنشہ دوعالم ہم ز تو خواہد کفیلؔ عاصی 
کہ  رستہ  از  قہر  مہر  محشر ز دامنت  سائبان  باید

کفیل احمد کفیلؔ فتحپوری 


منقبت در شانِ امام عالی مقام (اردو)

 جومشعل رہگزرہےاب تک نبی کی سیرت، حسین سے ہے 
رضا، مروج ،حسین سے ہے، وفا، عبارت، حسین سے ہے

ملی ہےجن کوخدا سےجنت وہ نازقسمت پہ کررہے ہیں
حسین پرناز خلد کو، ہےکہ شان جنت حسین سے ہے

دبانہ پائے گی کوئی طاقت اذاں یونہی گونجتی رہیگی
رہیگی محفوظ تا قیامت کہ یہ حفاظت حسین سے ہے

خزاں کی زد پہ تھا یہ چمن بھی،  بہار بن کر حسین آئے
چمن جو اسلام کاہےتازہ یہ رنگ و نکہت حسین سے ہے

وہ کتنے اعلیٰ ہیں رب ہی جانے مگر جہاں اس پہ متفق ہے 
کمالِ رفعت حسین سے ہے وقارِ عظمت حسین سے ہے

گھرا بلا میں ہے کل گھرانہ،  رضاے حق ہے مگر نشانہ 
یہ استقامت حسین سے ہے، علوے ہمت حسین سے ہے

کفیلؔ مدحت کا یہ صلہ ہے نہیں یہ توقیر اکتسا بی
تمہیں زمانے سے جو ہے حاصل یہ شان و شہرت حسین سے ہے

کفیل احمدکفیلؔ فتحپوری 


منقبت در شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ 

اے ابن  حیدر قرارِ  زہرا ،عظیم  کتنا  نسب  ہے  تیرا
تو ہے نواسہ شہِ امم کا نفیس و اعلیٰ حسب ہے تیرا

رشید تو ہے، فرید تو ہے، رہِ وفا کا شہید تو ہے 
غم و الم سے بعید تو ہے، شہیدِ اعظم لقب ہے تیرا

ہے شان تیری بلند و بالا، تو ہے منارا فضیلتوں کا
تری ہے دنیا، تری ہے عقبیٰ، رسول تیرے ہیں، رب ہے تیرا

تری محبت ہے فرض ہم پر، کہ تو ہے جانِ حبیبِ داور
ہماری خاطر سبیلِ بخشش اے میرے شبیر ادب ہے تیرا

ہے مومنوں کو تری ضرورت، ضیائے ایماں ہے تیری الفت
طرب کا ساماں ہے تیری مدحت، حسین رتبہ عجب ہے تیرا

تُو مدح خواں جب حسین کا ہے، ریاضؔ کیوں اتنا غمزدہ ہے
تجھے  وہ محشر میں بھول جائیں، یہ سوچنا بے سبب ہے تیرا

ریاضؔ احمد برکاتی کولکاتہ ،مقیم جدہ عرب


نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(اردو)

قلوب و اذہان میں جو آیا، اے دوستو !جب خیال ان کا
ملی ادا لا جواب ان کی، بیاں ملا بے مثال ان کا

مثال روئے نبی نہیں ہے، ہے وہ حسیں خدّ وخال ان کا
نہ جسم اطہر کا ان کے سایہ، نہ ہے جواب جمال ان کا

نثار ان پر خلیل و موسیٰ ،فدا ہیں ان پر ذبیح و عیسیٰ
جمال یوسف ہے جن کا صدقہ ،ہے خالق ذوالجلال ان کا

ہے ان کے قبضے میں کل خدائی، ہے ان کی ٹھوکر میں بادشاہی 
ہے ان کا مشرق ،ہے ان کا مغرب، جنوب ان کا، شمال ان کا

بحکم سرور قمر ہو ٹکڑے، ادب میں ان کے درخت دوڑے 
ہر ایک شئے پر عطائے رب سے، ہے اختیار وکمال ان کا

وہ جن کی قرآن میں ہے مدحت، وہ بن کے آئے ہیں سب پہ رحمت
گھٹائے کیا کوئی ان کی عظمت ،عروج ہے لا زوال ان کا

وہی ہیں اول، وہی ہیں آخر، وہی ہیں باطن، وہی ہیں ظاہر
انہیں کے لوح و قلم ہیںشیداؔ، انہیں کا سورج، ہلال ان کا

 محمد حمزہ شیداؔقادری اسمٰعیلی بنارس


نعت پاک(اردو)

جو حال دل ہے عیاں ہے تجھ پر بیان تجھ سے ہو حال کیسا
جو تجھ کو دینا ہو بے طلب دے سخی کے در پر سوال کیسا

تمہارے عاشق ہیں ان کے دل کو ہو رنج کیسا ملال کیسا
ہو جن کی رہبر تمہاری سیرت انہیں ہو خوف زوال کیسا

ہم اور اب کس کے در پہ جائیں ہم اپنا دکھڑا کسے سنائیں
کہاں ہیں ایسےسنےجو کوئی کہ ہم ہیں کیسےہےحال کیسا

جو سوز الفت میں جل رہے ہیں جو ان کی سنت پہ چل رہےہیں
خدا نے رکھا ہے ان کو دیکھو جہاں میں آسودہ حال کیسا

یہ کون جاتا ہے سوئے خالق کہ راہ میں کہکشاں بچھی ہے
زمیں سے تا عرش روشنی ہے ،ہے آج جشن وصال کیسا

جو عاشقی کا ہے تم کودعوی تو پہلےیہ بھی ضروردیکھو
ہے دل میں درد اویس کیسا جگر میں عشق بلال کیسا

نبی کی صورت جمال حق ہے نبی کی سیرت ہے روح قرآں
نبی کو بخشا خدانے رضویؔ جمال کیسا کمال کیسا

پیکر رضویؔ عظیم آبادی بہار


منقبت در شانِ امام پاک(اردو)

جہاں میں نکہت حسین تم سے دلوں کو راحت حسین تم سے
ہمیں محبت حسین تم سے ہمیں عقیدت حسین تم سے

حدیث یہ مسلموں کے گھر کا ہر ایک انسان جانتا ہے
حسین! تم ہو نبی سے اور ہیں نبی رحمت حسین ! تم سے

بھلے ہی وہ کربلا میں تشنہ شہید کرکے ہیں شادماں پر
خرید پائے نہ اہل باطل کبھی صداقت حسین تم سے

یزیدیت کچھ بگاڑ پائی جدیدیت بھی نہ کچھ بگاڑے
ہمارا اسلام تو سلامت ہے فی الحقیقت حسین تم سے

یہ مرضیء کبریا تھی جس پر نثار جانوں کو کر دیا تھا
وگرنہ دنیا میں کون کرسکتا  تھا بغاوت حسین تم سے

وہ اپنے منھ کو بروز محشر دکھائیں گے کیسے کبریا کو 
جو اپنے مردہ دلوں میں ہر پل رکھیں کدورت حسین تم سے

جنہوں نے آنکھوں سے اپنی آنسو تمھارے غم میں بہا دیے ہیں
پئیں گے واللہ جام کوثر سر قیامت حسین تم سے

تمھارے غم کو بسا کے دل میں لکھی ہے جو منقبت تمھاری 
سنائیں گے روز حشر ہم کو ملے اجازت حسین تم سے

ہے التجائے دل تبسم غلام اپنا بتانا اسکو
خدائے رب قدیر پوچھے جو میری بابت حسین تم سے

 تبسم پرویز تبسمؔ سنبھل 


منقبت درشانِ امام حسین ابن علی رضی اللہ عنہما

ہے باغِ جنَّت پہ کس کا قبضہ،حسین ابن علی تمہارا
یہ سبزہ زارِ جہاں ہے کس کا، حسین ابن علی تمہارا

نبی ہیں نانا،بتول ماں ہیں،علی ہیں بابا،حَسَن ہیں بھائی
گھرانہ کتنا عظیم و اعلٰی،حسین ابن علی تمہارا

بغیر مانگے جو بھردے کاسہ،بنے سہارا جو بےبسوں کا
وہ رحمتِ عالمیں ہے نانا حسین ابن علی تمہارا

تمہاری عزّت تمہاری عظمت، تمہاری شوکت ہے اِس سے واضح 
کہ آکے قدسی جُھلائیں جھولا حسین ابن علی تمہارا

بلالی سجدے،صہیبی سجدے ہزاروں سجدے ہوے جہاں میں
مگر ہے سب سے عظیم سجدہ حسین ابن علی تمہارا

یزید تھا،مٹ گیا جہاں سے،نہیں ہے نام و نشان اس کا 
ہے بزمِ ہستی میں نام زندہ حسین ابن علی تمہارا

اکیلا یاسینؔ خستہ مدحت سَرا نہیں ہے تمہاراآقا
ہے گونجتا سارے جگ میں نغمہ حسین ابن علی تمہارا

محمد یاسینؔ مصطفائی، گجرات


نعتِ رسول ﷺ   

 نہیں ہے ذکرنبی لبوں پر دلوں میں عشقِ نبی نہیں ہے
اگر ہے ایساتوپھر ہماری یہ زندگی زندگی نہیں ہے 

چہل پہل نور کی جہاں ہے نثار بازارِ مصر جس پر
تمہیں بتاؤ اے زائرو کیا مدینے کی وہ گلی نہیں ہے

اسے خبر ہے اسے پتہ ہے لگا ہے نامِ نبی کا طغرا
ہمارے گھر کی طرف مصیبت اٹھا کے سر دیکھتی نہیں ہے

جسے جو چاہیں عطا وہ کردیں بلا کے منگتا کی جھولی بھر دیں
نبی سا مختارِ کل جہاں میں یقین جانو کوئی نہیں ہے 

گزر رہی ہے بڑے مزے میں حیات وصفِ رسول کرتے
گدائے آقائے دو جہاں ہیں ہمیں کہیں کچھ کمی نہیں ہے

نبی کے روضے کے سامنے ہم پڑھیں درود و سلام پیہم
نصیب ایسا کہاں ہے اپنا نصیب ایسی گھڑی نہیں ہے 

کرم کبھی تو نبی کا ہوگا کبھی تو حرفِ جلی بنے گا
شفیقؔ حرفِ  خفی ہے جب تک شعاعِ طیبہ پڑی نہیں ہے

 شفیق رائے پوری ، چھتیس گڑھ ( انڈیا )



 غزلیات

قلندروں کی نہ پوچھ عظمت عجیب شانِ قلندری ہے 

ہے جس کے دامن میں گوہرِ حق متاعِ عرفان و آگہی ہے
اسی کی دولت ہے ا صل دولت حقیقتاً اہلِ زر وہی ہے

قلندروں کی نہ پوچھ عظمت عجیب شانِ قلندری ہے
ہے ان کے دامن میں تاجِ شاہی انھیں کے قدموں میں سروری ہے

رموزِ ہستی سے جو ہیں واقف جنھیں ملی معرفت کی منزل
خد ا رسیدہ وہی ہیں بندے انھیں کی پر کیف زندگی ہے 

  خلوص، الفت، وفا، محبت یہ سب ہیں اوصاف آدمی کے
نہ جس میں ہو وصفِ آدمیت وہ آدمی کوئی آدمی ہے

نقوشِ اسلاف کو جہاں میں نشان ِ تاریک کہنے والے
جسے سمجھتا ہے تو اندھیرا وہی حقیقت میں روشنی ہے

نہ کر غرورِ حیات ناداں ہے چند روزہ بہارِ ہستی
ہے ساتھ تب تک ہی زندگی کا یہ سانس جب تک کہ چل رہی ہے

گزارے جس نے تمام روزے عبادتوں میں ریاضتوں میں
وہی ہے حقدارِ شادمانی اسی کی ہر عید کی خوشی ہے

سخنوروں میں جو نام چاہے تو کر لے فن پر عبور حاصل
سمجھ نہ احسنؔ تو اس کو آساں بڑی ہی مشکل سخنوری ہے

 محمد فاروق خاں احسن اعظمی، گومتی نگر، لکھنؤ


 میں ذبح ہونے کو خود کو اک عرصہ سے سماعیل کر رہا ہوں

کبھی تھا میں نفرتوں کا  تاجر، اب عشق کی ڈیل کر رہا ہوں 
چراغِ عشق و وفا کی خاطر میں خود کو  قندیل کر رہا ہوں

جو تم براہیم بن نہ پائے تو مجھ ذبیحے کا کیا بنے گا 
میں ذبح ہونے کو خود کو اک عرصہ سے سماعیل کر رہا ہوں

تمہارے کعبہ کو ڈھانے مولا اک ہند کا ابرہہ ہے نکلنا 
فقط  ابابیل بھیج دے اک میں خود کو سجیل کر رہا ہوں

چلا گیا عشق کے محل یعنی میرے دل سے مرا ہی دلبر  
حکومت دل کے ہیڈ کوارٹر کو اس لیے سیل کر رہا ہوں

نہ جانے کب کیسے مجھ کو تیری محبتوں کی ہوائیں لگ گیں
میں  چھت پہ بیٹھا ہواؤں میں تجھ کو ہی فیل کر رہا ہوں 

ذرا ذرا جو چلا گیا ہوں میں تیرے اندر ذرا کرم کر
نکال کر مجھکو دیدے مجھکو میں اپنی تکمیل کر رہا ہوں

یہی نا تو چاہتا ہے سننا کہ دل میں چاہت ہے تیری پنہاں 
بلا سبب کی یہ الٹی سیدھی تمام تاویل کر رہا ہوں 

  یہ مکتبِ عشق بند کرنے کی فکر میں ہے پھر آج شیطاں 
میں اس کو گمراہ کرنے کو ہی یہ لمبی تعطیل کر رہا ہوں

جو مر گیا دل، سحرؔ تو کیسے پھر اس کی ترویح کر سکوں گا 
یہ سوچ کر مدتوں سے میں روحِ دل کی تعدیل کر رہا ہوں

سحرؔ اورنگ آبادی



The eulogy of prophet Muhammad peace be upon him 

Everybody is praising you prophet you are the greatest you are the prophet,
The arch angel jibreel is saying you are the best you are the prophet .
In your glorification every creation is reciting O master ,
Everybody is saying with enthusiasm and zest you are the prophet .
You are leading a normal life in your sacred and beautiful tomb,
It is evident you are alive though laid to rest you are the prophet.
Your achievement is the unparalleled because in the month of holy Rajab, 
In the non-abode you became Almighty's welcome guest you are the prophet  

The sun and moon and the galaxies  are delighted to see your beauty,  
Even the birds are singing your eulogy in their nest you are the prophet  

Almighty bestowed you with the light of knowledge in the form of the Iqra, 
In the Hira cave while you were sitting in your quest you are the prophet .

Many many thanks to Almighty, he made " Aini" the eulogy writer , 
With his family and the friends is  saying in the mood of fest you are the prophet. 
By: Sayed Khadime Rasul Aini

منقبت در شانِ امام حسین رضی اللہ عنہ(اردو)

حسین یہ ارضِ کربلا ہے یہاں نہ خیمے لگائے جائیں
حسین ہم راہ بیبیاں ہیں، حسین بچے بچائے جائیں

بہت ضروری ہے کیا یہ آقا کہ دامنِ دینِ حق کے شعلے
اگر بجھانے کی آئے نوبت ، جواں لہو سے بجھائے جائیں

حسین اک خشک آب خورہ کہیں نہ دریا کو زیر کردے
حسین رک جائیں تشنگی کے نہ یوں معانی بتائے جائیں

حسین باطل کے روکنے کو، نحیف و نازک سے پھول پیاسے
بہت ضروری ہے کیا یہ آقا کہ زد پہ تیروں کی لائے جائیں

رداؔ ، رداؤں کی خیر مانگو یہ سر پہ عزت ہے عورتوں کی
دعا کرو یہ رہے سلامت ، کبھی نہ خیمے جلائے جائیں

فوزیہ اختر ردؔا، کولکاتا


غزل(فارسی)

مرنج اے دل، بر آفتِ آسمانی و ارضی از خدایت 
بلہ بکن صبر تا بمستقبلت خوشی قشنگی فدایت

نخواہی عمرِ دراز ہرگز، او در ایں دنیائے رنگ و بو نیست
متاعِ دنیا قلیل بودند، ز قرآں یابی ایں اہتدایت

بگوش و چشم و خیال مصروف شو تو در کارہائے مولا
تا آں شود با کمال و خوبی بصد توجہ بکارہایت

سیاہیت زلفِ عنبریں بے مثال باشد مثیل باید
شود سیہ شب کنی ہمی باز گاہے مو را پراندایت

 مسیحِ من، خضرِ من، تو ہستی، رخِ تو جانِ سحرؔ بمستی
سرم نہادم بصد نیاز و تواضع بہرِ ایں زیرِ پایت

سحرؔ اورنگ آبادی


0 Comments