مصباح الحدیث 2: الصبر و الشکر

Image result for ‫الإِيمان نصفان: فنصف في الصبر، ونصف في الشكر‬‎
حدیث:"الإِيمان نصفان: فنصف في الصبر، ونصف في الشكر"
ترجمہ:ایمان کے دو حصے ہیں: آدھا صبر میں ہے اور آدھا شکر میں ہے۔

عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الإِيمان نصفان: فنصف في الصبر، ونصف في الشكر"  والشكر نصف الإيمان حيث إن الإيمان نصفان: نصف شكر ونصف صبر، أخرجہ  البيهقي في شعب الإِيمان والخرائطي في كتاب الشكر.(الدر المنثور 1/107)
قال عبد الله بن مسعود ـ رضي الله عنه ـ الإيمان نصفان: نصف صبر ونصف شكر، ولهذا جمع الله سبحانه بين الصبر والشكر في قوله: ( إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ ( سورة إبراهيم آية/5،  وفي سورة حم عسق آية/33، وفي سورة سبأ آية/19، وفي سورة لقمان آية/31)
توضیح:
مسلمان کی پوری حیات صبر و شکر سے عبارت ہوتی ہےکہ اسلام کی ہر بات صبر و شکر کے دائرے میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دیگر نیک اعمال کے مقابلہ میں صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍO
’’(حبیب مکرم ﷺ) فرما دیجئے : اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گاo‘‘ (الزمر(
شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ جذبۂ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں شکر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاO
’’اللہ تمہیں عذاب کیونکر دے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘( النساء(
چنانچہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے جب عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپﷺنے فرمایا :اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.’’کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ (مسلم، الصحيح، کتاب صفة القيامة ۔۔۔ ،  باب : اکثار الاعمال ۔۔۔(
اس توضیح سے معلوم ہواکہ گویا صبر و شکر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ملا دیاہے اور فرمایا :
  إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍO
’’ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیںo‘‘ (السباء(
یہی اس حدیث میں مذکور ہےکہ حضرت مغیرہ بن عامر سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
الشکر نصف الايمان والصبر نصف الايمان و اليقين الايمان کله.’’صبر نصف ایمان ہے، اور شکر نصف ایمان اور یقین کامل ایمان ہے۔‘‘( بيهقی، شعب الايمان، رقم : 4448)
 محمد شبر رضا قادری
x

0 Comments