اداریہ ع: سحر کو جشن میلاد النبیﷺ سے خاص نسبت ہے

Image result for ‫عید میلاد النبی‬‎

ع: سحر کو جشن میلاد النبیﷺ سے خاص نسبت ہے

بفضلہ تبارک و تعالیٰﷻ وبکرم حبیبہ الاعلیٰﷺ ہمیں ہزارہانعمتوں سے نوازاگیا۔ انہیں میں سے ایک عظیم نعمت سحرگاہی ہے ۔ جودل و دماغ کے لیے باعثِ تسکین اور جسم وروح کے لیے وجہِ قرار، فرحت آفرینی، تندرستی اور صحت یابی کی ضمانت ہے ۔ اسی لیےسحرخیزی انبیا ے کرام،اولیاے عظام،علماے ربانیین ،خداکے محبوبین اور دانشوروں کامعمول رہی ہے جب کہ اس روح افزا ساعت میں غفلت کی چادرتانے نیند کے آغوش میں پڑے رہنا بالکل غیرمعقول امر ہے۔
  آج میڈیکل سائنسMedical scince بھی کہہ رہی ہے کہ: سورج طلوع ہونے سے دو گھنٹہ قبل کا وقت انسانی زندگی کے لیے بہت اہم ہے ۔ اس وقت زمین پر موجود جمیع نباتات درخت، پودے اور گھاس پات وغیرہ کثیر مقدار میں وہ آکسیجن خارج کرتے ہیں جو بیدارانسانوں کے لیے آب حیات سے چنداں کم نہیں اور جونہی سورج نکل آتا ہے یہ جاں بخش، فعل قدرت آئندہ کل تک کےلیے مؤخر ہو جاتا ہے ۔
  سحرگاہی کا دین اسلام میں خاص لحاظ رکھا گیا ہے چنانچہ اہل اسلام کو بڑی سے بڑی نعمتیں اس مبارک ساعت میں عطا کی گئیں حتیٰ کہ جب خداوند قدوس نے اس خاکدان عالم کو نعمت عظمیٰ حبیبِ پاک صاحب لولاک ﷺ کی ذات مقدسہ سے سرفراز کرنا چاہا تب بھی اسی ساعت مبارکہ کا انتخاب کیا اور بوقت سحر آپ کو مبعوث فرمایا۔ یہ ساعت آپ کی نسبت پاکر اور بھی برکتوں کی حامل ہوگئی یہاں تک کہ اس کی عظمتوں کو چار چاند لگ گئے۔؎
سحرؔ کو جشن میلادالنبیﷺ سے خاص نسبت ہے
تبھی تو رات کا یہ آخری حصہ چمکتا ہے
  اسی مبارک وقت میں مسلمانوں پر نماز فجر جیسی عظیم نعمت موقت کی گئی تاکہ بندۂ مومن بستر استراحت چھوڑ کر عبادات سے لطف اندوزہو اور سکونِ قلب وآرام ِجان پائے اور خدا ے کریم کی سحر خیزی جیسی نایاب نعمت سے بہرہ مندہو۔ نیز قبل صبح صادق نماز تہجد بصورت سنت کفایہ مسلمانوں کو ہزارہانعمتوں، رحمتوں اوربرکتوں سے نوازتی ہے اور بہ توفیق خداوندی بندۂ مومن از بارگاہ رب العزت بے پناہ لطف و کرم سے بہرہ مند ہوتا ہے ۔
  لیکن صدافسوس! آج صورت حال یہ پیدا ہوگئی ہے کہ صبح صادق ہوتے ہی چرند پرند جاگ اٹھتے ہیں ، نباتات کی پتیاں تالیاں بجانے لگتی ہیں، مور رقص شروع کردیتا ہے اور مرغ اپنی آواز میں اذان دے دے کراشرف المخلوقات کو اٹھا نا چاہتا ہے مگر یہ جناب اٹھنے کا نام نہیں لیتے ۔چیل کوے،بیل گدھے سب بیدار ہو گئے لیکن حضرت انسان کا سینکڑوں مخلوق کی بیداری کے بعد بھی بیدار نہ ہونا یقیناً انسانیت کے نام پر کلنک ہے جو بزبان حال یہ کہتا نظر آتا ہے کہ یہ وقت ہمارے سونے اور آرام کرنے کا ہے ہم اس وقت جاگنے کے نہیں ۔ ہاں! اگر صور اسرافیل پھونکا گیا تو شاید جاگ پائیں ۔ عجیب حالت ہے؛ ساری مخلوق بیدار ہے لیکن سب سے افضل مخلوق کہلانے والے جنابِ انسان محو خواب۔
  جہاں علی الصباح اٹھنے کے بے شمار فوائد ہیں اسی طرح وقتِ صبح سونے کے ڈھیروں نقصانات بھی ہیں۔
  حدیث پاک میں ہے کہ صبح کا سونا مانع رزق ہے تنگدستی اور مفلسی لاتا ہے یعنی صبح کا اٹھنا فراخ دستی کے اسباب میں سے ہے مگر کیوں؟  آخر اس کا محرک کون ہے؟ تو دوسری روایت میں ہے کہ ہر دن کا رزق طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک تقسیم کر دیا جاتاہے۔
  صبح کی بیداری افزونی رزق کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کی زیادتی اور پختگی کا بھی باعث ہے جب کہ اس وقت کی نیند اس کے بر خلاف ۔ اسی تناظر میں ایک دانشور کا قول ہےکہ :رات جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا عقلمندی کی دلیل ہے۔یہ حقیقت ہے کہ فی زمانہ ہمارا معاشرا سحرخیزی میں بھی پچھڑا ہوا معاشرا ہے اس کے کئی اسباب ہیں ان میں سے ایک بڑا سبب رات گئے تک جاگنا ہے۔
  حالانکہ اسلام میں فضول کام تو در کنار فضول بات بھی کرنا سخت ناپسندیدہ ہے  اسی طرح صبح کاسوتے ہوئے گزاردینا بھی مکروہ اوراگر نماز فجر بھی ترک کردے تو سخت حرام ۔  غرض یہ کہ رات جلد سونے کی بھی عادت ڈالنی ہو گی تاکہ صبح کی بیداری میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اہل اسلام کا یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ جو اعمال مسلمانوں میں رائج تھے بلکہ جو بشکلِ احکام اسلام مشروع ہیں اور فوائد کثیرہ کے جامع ہیں اسے بھی آج کے مسلمان چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اور یہی نہیں اس پر مستزاد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے فراموش کردہ  انہیں کاموں کو اپنا کر دوسری قومیں زوال سے عروج کو پہنچ رہی ہیں اور مسلمان صرف تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔   ع
بریں عقل و دانش بباید گریست
  سحرگاہی ،خداکی نعمتوں کا خزانہ ،باران رحمت کا رحیمانہ شامیانہ اور دعا کے مستجاب ہونے کا پروانہ رکھتی ہے۔بہر حال ہمیں صبح خیزی کو شامل معمول کرناہی ہو گا تا کہ خوش نصیبی ہمارا مقدر ہو ورنہ ہم حرماں نصیبی کا ماتم کرتے رہیں گے؎
عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحرگاہی
  کتنا اچھا ہوتا!اگر امت مسلمہ کا خزاں رسیدہ چمن پھر بہار آشنا ہو جاتا، تعلق باللہ کی مستیاںعودکرآتیں،عشق رسول ﷺکی ہوائیں ہر سو چلنے لگتیں اورہمارا سونا، اٹھنا، کھانا، پینا، رہنا،سہنا اور مر نا ،جینا تک سب محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ہوتا تویقیناًبہر جانب چمن زارِ قرآن وسنت لہلہا اٹھتا۔ 
   ٭٭٭


0 Comments