راہِ جنت میں ہی تو نار سقر آتا ہے
شام جاتی ہے تو پھر وقتِ سحر آتا ہے
عشق و الفت کی ریاضی کا الگ ہی ہے حساب
دو سے اک جائے تو حاصل میں صفر آتا ہے
ہے غلط فہمی وہ کھائی کہ جو اس میں گر جائے
ڈوب جاتا ہے کبھی اور نہ ابھر آتا ہے
گردشِ دوراں نے پہنچا دیا اس کوچے میں
جس گلی میں مرے دلدار کا گھر آتا ہے
شکر صد شکر ترا ظالم دورِ افلاک
ظلم میں تجھ سے ترحم کا ہنر آتا ہے
ہیں عجب لوگ ، عجب بستی ، عجب ہے صحرا
سایہ دینے کو یہاں سوکھا شجر آتا ہے
زخمِ دل، زخمِ جگر رسنے لگے ہیں اب تو
دیکھو کب مرہم کافور، سحرؔ آتا ہے؟
شبیر سحرؔ اورنگ آبادی

0 Comments