خوشی، غم

خوشی، غم


میں اپنے آپ کو کتنا سزا دوں 
بالآخر اپنا سر بھی کیا کٹا دوں

خوشی رونے لگے گی منہ چھپا کر 
نقاب  اپنے  غموں سے  گر ہٹا دوں 

مرے حالات سے واقف ہے پھر بھی 
وہ کہتا ہے کہ میں اس کو صدا دوں 

مجھے اتنا پریشاں کر رہے ہو 
کہو تو یار کو اپنے بتا دوں 

ستاروں کی قطاروں سے ہے خواہش 
تمہاری مانگ کو اک دن سجا دوں

کوئی مجھ سے وفا کرتا نہیں ہے 
مگر میں کیوں کسی کو بھی دغا دوں 

میں خدمت دے رہا ہوں دینِ حق کی 
دم آخر تک ایسے سدا دوں

سحرؔ  میرا تخلص واقعاً ہو 
اندھیرے کو اجالا جو بنا دوں

0 Comments