بصورتِ نعت، صنعتِ ذوالقوافی
جب بھی ان کا خیال آتا ہے
تیرہ دل کو اجال جاتا ہے
جس کو قرب رسول مل جائے
رب کا وہ اتصال پاتا ہے
ان کے ابرِ کرم کا کیا کہنا
جس پہ چھاتا کمال چھاتا ہے
ذکرِ شاہ رسل تو حرز ہے وہ
خوف جس سے زوال کھاتا ہے
صاحبِ خلق سب ہیں سجدہ ریز
ایسا وہ خوشخصال آتا ہے
وہ ہیں شافع مرے، ہوں میں مجرم
ان سے میرا کمال، ناتا ہے
شاہ نے کی گداگروں پہ کرم
پورے کرتا سوال، داتا ہے
مہربانی، عطا، کرم، بخشش
بندہ ان کا نوال کھاتا ہے
میں بھکاری کمال کا ٹھہرا
شاہ بطحا، کمال، داتا ہے
عقل، ظن و گمان و اندیشہ
جانے کیا کیا وبال کھاتا ہے
بھائے الفت کے زہر کا پیالہ
کیوں نہ آبِ زلال بھاتا ہے
عقل پر راز جو ہیں سر بستہ
دل انہیں کھول کھال لاتا ہے
سورہ والضحی سحرؔ پڑھے
خوف جب زلزلال لاتا ہے
ش، سحرؔ اورنگ آبادی

0 Comments