★دست و دہن: لغزشِ زبان و قلم★

★دست و دہن: لغزشِ زبان و قلم★
    اُڑتی، اڑاتی، بھٹکتی، بھٹکاتی، بہکتی، بہکاتی، خبریں جن کا مصدر کل تک زبان تھی ۔ اور منہ کی نسبت سے ہی انہیں افواہیں کہا جاتا ہے ۔ آج اس ترقی یافتہ معاشرے میں اس کی بھی خوب ترقی ہوئی ۔ حتٰی کہ اس نے خطابوں سے بڑھ کر کتابوں میں اپنی جگہ بنالی ۔۔۔۔۔۔ کل تک زبان و قلم میں جو امتیاز باقی تھا وہ آج اس زاویے سے ختم ہوچکا اور صرف بصورتِ  ع و غ نقطے کا ہی فرق باقی رہا۔ـــــــ اور اب حال یہ ہے  کہ حقیقت کے برعکس افواہوں اور افسانوں کا اثر کہیں زیادہ قبول کیا جا تا ہے اسی کے تناظر میں بندے نے کبھی کہاتھا ۔ شعر :
زار و قطار جسے سنتے ہی روئی محفل 
 بعدِ تحقیق وہی ایک فسانہ نکلا
   افسوس کہ اب زبان کی طرح قلم بھی لاخیروں کے ہاتھوں بےقدری کا شکار ہو رہا ہے اور اب اس کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی۔ ........... از🖋: محمدشبیرسحر


0 Comments