★پیمانۂ ذوقِ طبیعت★
(ایک خاموش پیغامِ اتحاد، سبھی کےلیے)
جس طرح ہمارے بہت سے جوابات پیچ و تاب کھاتے ہوئے پیٹ میں ہی دبے رہ جاتے ہیں یونہی اکثر بغیر سوچے سمجھے لبوں کے پٹ ازخود کھول کر منہ کے دروازے سے پھلانگیں مار مار کر نکلتے اچھلتے کودتے ایک دنیا میں کہرام مچا ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔ فی زمانہ تو اپنے قلم کی نوک سے فقہاہت کی سیاہی جھاڑنے والوں کی کمی نہیں جو غیظ و حسد کی آگ سے جلی ہوئی تحریر اور آتشِ انتقام سے بھنا ہوا انداز و اسلوب سے لیس خامہ فرسائی میں تمتمائے اور تیوری چڑھائے انتہائی مصروف ہیں ۔ ۔ ۔کاش کہ وہ جہاں اپنے بےجا مسائل میں تاویلات کثیرہ کر ڈالتے ہیں وہیں دوسروں کے حق میں کوئی ایک تاویل کو ہی بروئے کار لاتے ہوئے زبان و قلم کی حاسدانہ معرکہ آرائی سے باز رہیں تو معاملہ یوں خراب نہ ہو اور کوئی بری نوبت نہ آئے! ۔۔۔۔۔۔ کہ ٭ذوقِ طبیعت کا پیمانہ جداگانہ ہوتا ہے٭ اسی لیے اپنے ذوق پر دلائل و براہین معتبرہ کے ہوتے ہوئے بھی جب تک کسی کا فساد مکمل واضح نہ ہوجائے اس کا رد و ابطال خود ہی باطل ہے۔ اور یہ تو مسلم ہے کہ اپنے ذوق کو کسی پر جبراً مسلط نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔ مگر ہائے! اس معتدل ضابطے کا فقدان نقطۂ انتہاء پر پہنچ چکا ہے اور حد تو یہ ہے کہ جو شبانہ روز اس نظریے سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں وہ بھی اس میں شدت کے ساتھ ملوث ہیں ۔ اور اس پر بھی طرا یہ کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں ۔ اب یہ بےحسی قصداً ہے کہ سہواً معلوم نہیں مگر اتنا ضرور پتہ ہے کہ یہ اعلیٰ قبیل کی بےحسی ہے ۔۔۔۔۔۔خدارا اس بےحس روش سے اجتناب کرکے صحیح طرزِ زندگی اسلامی کلچر کے خوگر بن جائیں تو یقیناً اب بھی ہمارے درمیان سلامتی ہی سلامتی ہوگی ۔۔۔۔۔ خدائے کریم ہمارے حواسِ ظاہرہ کے ساتھ ساتھ حواسِ باطنہ کو بھی بیدار فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
از🖋: محمد شبیر سحر قادری
8/11/18


0 Comments