ٹوٹ کر دل مرا



سسکیوں کی زباں میں میں اس سے کہا
اک     نگاہِ محبت    ادھر   ہو    ذرا

  میں تو روتا رہا پھوٹ کر زار زار 
مسکرا تا رہا دیکھ کر میرا یار 

پھر تو بالکل ہی وہ پھوٹ کر ہنس پڑا
اور کچھ دیر تک یونہی ہنستے رہا

خاک میں مل گیا ٹوٹ کر دل مرا
اس کے حلقوم سے نکلی جب یہ صدا 

تو نہیں ہے مرا مجھ سے تو دور رہ
جاکے اوروں سے اپنی کہانی تو کہہ

0 Comments