تتلی اور صیاد


الفتوں کے چمن سے دور کیا
مجھکو میرے وطن سے دور کیا  
نازک اندام پر یہ قید و بند
رکھا قفسِ ستم کا یوں پابند 
بھوکے پیاسے تڑپ رہی تھی میں 
بن گئی پوری بے بسی تھی میں
ظلم  کے توڑے مجھ پہ اس نے پہاڑ 
اس نے حالت دیا تھا میری بگاڑ  
ختم جب ہوگئی شکیبائی 
آخر اس سخت جاں پہ بن آئی
پر وہ ظالم بھی خاندانی تھا 
شمر مردود کا وہ ثانی تھا 
جبکہ بندش کا بندوبست گیا 
بہرِ آزادی اس کا دست چلا 
لیکن اس نے رہائی بھی دی سخت 
پنکھ میرے مسل دیے کمبخت
پھر بھی خوش ہوں کہ ہوگئی آزاد 
اپنے گلشن میں ہی رہوں آباد 

#ش،#سحر# اورنگ آبادی

0 Comments