ان شاء اللہ


ہجر و فرقت سبھی مٹ جائیں گے ان شاء اللہ 
جب کہ تشریف وہ لے آئیں گے ان شاء اللہ 

قلب مہجور نہ مایوس ہو ان کے در پر 
ایک دن ہم بھی پہنچ جائیں گے ان شاء اللہ 

یوں تو ہر دم وہ گزرتے ہیں ادھر سے لیکن 
اپنی خاطر بھی کبھی آئیں گے ان شاء اللہ

لکھ رہا ہوں جو ادھر سے میں مسلسل انہیں خط 
تو ادھر سے بھی جواب آئیں گے ان شاءاللہ

اک دفعہ اپنی توجہ وہ سحرؔ پر کردیں
سارے ارمان نکل آویں گے ان شاء اللہ


0 Comments