ہے حج کا موسم، چہار جانب سے لوگ مکہ کو جا رہے ہیں
و بارگاہِ نبیﷺ سے مہریں قبولیت کی لگا رہے ہیں
خدا خداﷻ کر کے مکہ پہنچیں ، نبی نبیﷺ کر کے طیبہ دیکھیں
وفورِ الفت کے قافلے حمد و نعت کے نغمے گارہے ہیں
وہ شمع، طاقِ حرم میں روشن ہے جس میں اسلام کی کشش ہے
سبھی ہی پروانہ وار مسلم حرم کی جانب جو جارہے ہیں
یہ عقل جو وہم میں ہے گم ملحدانہ طرزِ خیال لے کر
ہم اس کو عشقِ حبیبِ مولیٰ کے تازیانے لگا رہے ہیں
بہ چشمِ نمدیدہ، دل چکیدہ کیا لکھ سکوں نعتیہ قصیدہ
یہ میرے جذبات ہیں جو نعت رسول مجھ سے لکھا رہے
ہوں صیغۂ نعت میرے لب پر رواں بوقتِ نزع بھی یارب
شہیدِ الفت کے واسطوں سے ہم اپنے رب کو منا رہے ہیں
ہیں سایہ افگن وصال کے ابر زائران حرم کے سر پر
فراقِ طیبہ میں عاشقانِ رسول ﷺ آنسو بہا رہے ہیں
اے کاش مژدہ کوئی تو ایسا سنائے مجھ غمزدہ کو آکر
چلو سحرؔ جی تمہیں بھی اس بار آقا طیبہ بلا رہے ہیں
از: محمد شبیر قادری سحرؔ اورنگ آبادی

0 Comments