اسی کو فتحیں نصیب ہوں گی جو وقت کا شہسوار ہوگا




اسی کو فتحیں نصیب ہوں گی جو وقت کا شہسوار ہوگا
جو وقت ضـائع کرےگا یونہی وہ حســرتوں کـا مـزار ہوگا 

تســاہلی یہ ، تغــافــلی یہ ، خـــدار اب چھـــوڑ کــاہلـی یہ
نــہيں تو نــاکــامیوں کے بــاعث تو مثلِ گــردوغـبـار  ہوگا 

بــڑے عبادت گـــزار آئے ،  بــڑے ہی زاہـد جـہـاں نے پــائے 
خــدا کا پیارا بنےگا جس کو خـدا کے بندوں سے پیار ہوگا 

تڑپ رہا ہوں پھڑک رہا ہوں ، میں اپنے سر کو پٹک رہا ہوں 
مجھے یقیں ہے کہ وہ بھی میرے فراق میں اشک بار ہوگا 

جو سب کی پگــڑی اچھالتا ہے ، ضــرور آئے گـا وقت ایسا 
زمیں پہ دستار اس کی ہوگی زمانےبھر میں وہ خوار ہوگا

اگر ہو ان کی گزر ادھر سے  بلائیں ساری ٹلیں گی سر سے
خـزاں کا موســم خـزاں نہ ہوگا وہ موســمِ نــوبــہــار ہوگا 

شہِ دوعــالم ، شــفیع امت ، بســوئے من یک نـگــاہِ رحمت 
سـحـر پہ آقــا کــرم جــو کــردیں ، خدا بھی آمـرزگار ہوگا 

مـحمـدشـبـیرقـادری سحرؔاورنگـ آبادی ـ

Image result for ‫کامیابی پر اشعار‬‎

0 Comments