رہمنائی کے جو حقدار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا ہوں کہ بےکار سمجھتے ہیں مجھے
سن کے قــرآنِ مـقـدس کی تلاوت مجھ سے
اہل ِ دل واقف ِ اسرار سمجھتے ہیں مجھے
سن کے دیوانے کی یہ آہ و فغاں اہلِ جہاں
وقت کا شبلی و عطار سمجھتے ہیں مجھے
اب تلک میری حقیقت نہیں سـمجھا کوئی
"میں سمجھتا تھا مرے یــار سمجھتے ہیں مجھے"
پھول بن کر بھی یہ کھلنے نہیں دیتے مجھ کو
دوست ہی بــاعث ِ آزار سمجھتے ہیں مجھے
مثل ِ دســتــار جنہیں رکھــا میں اپنے سـر پر
آہ ! وہ لائقِ پــیـــزار سمجھتے ہیں مجھے
غـیر تو مجھ کــو سمجھتے ہیں بہی خواہِ زمـاں
پر بھلا اپنے ہی پـــرخـــار سمجھتے ہیں مجھے
میں گـــنہـگار ، خــطــاکـــار ، ســــزاوار ہوا
لوگ کیوں کر کہ نکـــوکــار سمجھتے ہیں مجھے
ســتر پوشـی مرے عیبوں کی وہ کـرتے ہیں سحرؔ
اور ســب صــاحبِ کردار سمجھتے ہیں مجھے
از🖊محمد شبیر سحرؔ اورنگ آبادی ☎️9004451375

0 Comments