خیرخواہی کے بدلے بدخواہی
کرتا سب پر وہ مہربانی ہے
ایک مجھ سے ہی آنا کانی ہے
میں بھی اس سے خفا خفا سا ہوں
میں بھی اس سے خفا خفا سا ہوں
اس کو بھی مجھ سے سرگرانی ہے
خیرخواہی کے بدلے بدخواہی
ریت دنیا کی یہ پرانی ہے
واقعی اس کو عشق ہے مجھ سے؟
یا یہ دعویٰ فقط زبانی ہے
اس پہ شیدا بہار ہے اور وہ
مجھ خزاں کی بھلا دوانی ہے
کیسے، کب، کس سے ہونے لگ جائے
عشق اک مرضِ ناگہانی ہے
چہرہ ان کا گلاب ہے دن کا
زلف ان کی تو رات رانی ہے
عشق وشق ان سے کیا مجھے ہوگیا
نذرِ غم میری زندگانی ہے
اچھے خاصے بھی سن نہیں پائے
جو مرے درد کی کہانی ہے
دوزخ ہجر کو سنبھالے ہوں
یہ مرے عشق کی نشانی ہے
غم نہ کھا اونچ نیچ سے پیارے
کیفیت ساری آنی جانی ہے
امتحاں میں کیا کامیاب ہوا!
*"اب تو ہر لمحہ امتحانی ہے"*
جل رہا ہے بہار میں گلشن
پلٹی ترتیب کیا زمانی ہے؟
کیوں نکلتے نہیں ہو میداں میں
طاری کیا حالتِ زنانی ہے؟
اپنے ہاتھوں سے حادثہ کرکے
کہ رہا ہے کہ آسمانی ہے
خواب میرا نہیں سہانا سحرؔ
اس کی تعبیر تو سہانی ہے
ش، سحرؔ اورنگ آبادی

0 Comments