اتنی قربت ہے ہوئی عشق سے، دیوانوں سے
موت جب ہونے لگے زیست کے سامانوں سے
خوف کیوں آئے نہ آزادی کے فرمانوں سے ؟
دل ہے جویائے سکوں خواہ جہاں سے مل جائے
خانقاہوں سے ملے، یا ملے میخانوں سے
عشق کے مسئلے ہیں، داب جنوں سے حل کر
یہ نہ حل ہوں گے کبھی عقل کے پیمانوں سے
حکمتیں ڈھونڈتے ہیں، اور نکالا ہی نہیں
جس کا ہر حرف ہے حکمت، اسے جزدانوں سے
حق پسندی ہوئی مفقود کچھ اس طور کہ اب
دل کو بہلاتے ہیں ہم لوگ بھی افسانوں سے
یہ تماشا ہے عجب اس کی خداوندی کا
کام اب ہونے لگے اس کے بھی شیطانوں سے
ماب لنچنگ کے برے سایے وطن میں پھیلے
"کیا توقع کریں ہم آج کے انسانوں سے"
بعدِ مردن، مری تربت پہ مسیحا آیا
شمع کو جلنے پہ الفت ہوئی پروانوں سے
جب سے مانا ہے سحرؔ ایک خدا کو ہم نے
تب سے ڈرتے نہیں شیطانوں کے طغیانوں سے
ش، سحرؔ اورنگ آباد


0 Comments