صحابی رسول ﷺ حضرت ابو جمعہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہمیں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کھانے کا شرف حاصل ہوا۔ اس وقت ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح بھی تھے ۔ عرض کیا: یارسول ﷲ ﷺ ! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہوگا ؟ ہم تو آپ پر ایمان لائے ہیں ۔ اور ہمیں آپ کے ساتھ جہاد میں بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ۔ ارشاد فرمایا : ہاں! ایک قوم ہے جو تم سے بھی بہتر ہے ۔ یہ تمہارے بعد ہوگی۔ مجھ پر ایمان لائے گی. حالاں کہ اس نے مجھے دیکھا نہ ہوگا ۔
سنن الدارمي | وَمِنْ كِتَابِ الرِّقَاقِ. | بَابٌ : فِي فَضْلِ آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ـــــــ میں ہے :
عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ - رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : نَعَمْ، أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا جَيِّدًا : تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا، أَسْلَمْنَا وَجَاهَدْنَا مَعَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ، قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي "
اسی طرح کی ایک روایت: مسند أحمد | مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ | حَدِيثُ أَبِي جُمْعَةَ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ ــــ میں آئی ہے ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ صحابۂ کرام عرض گزار ہوئے : کیا ہمیں آپ کے بھائی ہونے کی شرافت نصیب نہیں؟ ارشاد فرمایا : تم تو میرے صحبت یافتہ ہو۔ / مصاحب ہو۔لیکن میرے بھائی وہ اہل ایمان ہوں گے جو بِن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے ۔
مسند أحمد |مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ـــــــ میں ہے :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي ". قَالَ : فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي "
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ مذکورہ روایات میں آخری قوم کی جو جزوی فضیلت کا بیان اس کا پس منظر سمجھنے کے لیے درج ذیل حدیث شریف پڑھنا چاہیے: ـ
رسول کریم ﷺ نے ایک بار صحابۂ کرام سے فرمایا : کون سی وہ مخلوق ہے . جس کا ایمان لانا تعجب خیز ہے؟ ۔ صحابہ نے عرض کیا : فرشتے ۔ ارشاد فرمایا : وہ کیوں کر ایمان نہ لائیں گے جو اپنے رب کے حضور ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : پھر وہ انبیاء کرام ہیں ۔ ارشاد فرمایا : وہ کیوں کر نہ ایمان لائیں گے؟ جب کہ ان ہی پر وحی اترتی ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : پھر وہ تعجب خیز گروہ ہم صحابہ ہوسکتے ہیں ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم کیوں کر ایمان نہیں لاؤگے؟ جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک مخلوق میں بڑا تعجب خیز ایمان / بڑا پسندیدہ ایمان ان لوگوں کا ہے ۔ جو میرے بعد آئیں گے ۔ انھیں جو کتابیں ملیں گی، ان میں ایک کتاب اللہ بھی ہوگی؛ جس میں موجود تمام باتوں پر وہ ایمان لائیں گے ۔
"دلائل النبوة" للبيهقي (6/ 538) ـــــــ میں ہے :
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟ قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؟ قَالُوا : فَالنَّبِيُّونَ. قَالَ : وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ ؟ قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ : وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ َ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ بَعْدَكُمْ يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ اس آخری روایت نے ان حضرات کی جزوی فضیلت اور بِن دیکھے ایمان لانے کی جہت کو بیان کردیا ہے ۔ لہٰذا اوپر کی روایتوں کو اسی کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔واللہ تعالیٰ اعلم
0 Comments