
حدیث:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ "
ترجمہ:علم کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ،(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 224)
اخرج الامام السیوطی:"طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ و مسلمۃ" بزیادۃ "ومسلمۃ" ایضاً کما ذکر فیالجامع الصغیر فی باب حرف الطاء (رقم الحدیث5264)
توضیح:
احکامِ اسلام کا مقصد سمجھنے کے واسطے اتنا علم درکار ہے کہ شارع علیہ السلام کا منشاسمجھ سکے۔پس فقہ کی ضروری باتوں کا جاننا بہت ضروری ہےجس کا سیکھنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے اور اس کی بڑی فضیلت بھی ہے کہ ایک گھڑی علم فقہ میں مذاکرہ وگفتگو کر نا ساری رات عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے سے بہتر ہے ۔ اور بغیر عمل کے علم بھی مضر ہے کہ علم عمل کی میراث ہے۔چناں چہ حکمِ قرآن ہے کہ:
" اے ایمان والو !کیوں کہتے وہ جوکرتے نہیں کہ کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات جو کہو اور خود نہ کرو۔"(القرآن:سورۃ الصف)
حضرت زیاد بن لبیدرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی پاک نے ایک چیز ذکرکر کے فرمایا کہ اس وقت ہوگی جب علم جاتا رہے گا میںنے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیونکر علم جاتا رہے گا کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کر پڑھاتے ہیں وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے اسی طرح قیامت تک سلسلہ جاری رہے گا ۔ فرمایا زیاد تجھے تیری ماں روئے میں تو خیال کرتا تھا کہ تو مدینہ میں ایک فقیہ شخص ہے کیا یہود ونصاری توریت و انجیل نہیں پڑھتے مگر یہ کہ اس پر عمل نہیں کرتے قیامت کے دن سب سے برا مرتبہ اس عالم کا ہے جو خود متنفع نہ ہو ۔ اور فرمایا:سب سے زیادہ حسرت اس کو ہوگی جس نے علم ِ دین حاصل کیا اوراس سے سن کے دوسروں نے تو فائدہ اٹھایا لیکن خود اس نے فائدہ نہ اٹھایا ۔اور یونہی بغیر فقہ کے عبادت میں پڑ نے والا ایساہے جیسے چکی پیسنے والا گدھاکہ مشقتیں جھیلے اور نفع کچھ نہیں ؎
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور چیز
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
علم ہی تم میں نہیںہے تو عمل کیا ہوگا
جس خیاباں میں شجر ہی نہیں پھل کیا ہوگا
بغیر علم کے صوفی کو شیطان کچے دھاگے کی لگام ڈالتا ہے احکام ِ شرع پاک سمجھنے کے لیے ایک علم سیکھنا ساٹھ سال کی ایسی عبادت سے بہتر ہے جس میں ریا نہ ہو ۔ اور عالم کا حق غیر عالم پر ویسے ہی ہے جیسے استاذ کا حق شاگرد پر ۔ دوسرے ہدایت من عند اللہ جو متقیوں پرفائز ہوتی ہے اور جس سے فاسق وفاجر محروم رہتا ہے ۔
سید نا دائود طائی رحمۃ اللہ علیہ جب عالم یگانا تسلیم کر لیے گئے تب وہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاۂ عالیہ میں پہنچے کہ اب کیا کروں فرمایا عمل کرو یعنی عمل کے بغیر علم ایسے ہی ہے جیسے جسم بغیر روح کے یعنی دونوں ایک دوجھے کے بغیر بالکل عبث اور بے کار ہیں ۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ؎
علم چنداں کہ بیشتر خوانی
چوں عمل در تو نیست نادانی
نہ محقق بود نہ دانش مند
چار پائے برو کتابے چند
آں تہی مغز را چہ علم و خبر
کہ برو ہیزم است یا دفتر
(ترجمہ: علم جتنا زیادہ پڑھ لواگر تجھ میں عمل نہیں تو سراسر جہالت ہے کیوں کہ جانور پر اگر چند کتابیں لاد دی جائیں تو وہ محقق و دانش مند نہیں ہوجاتا کہ اس بے عقل کو کیا خبر کہ اس پر لکڑی لادی ہوئی ہے یا دفتر۔)
یا اس اندھے کی طرح جو اپنے ہاتھوں پرچراغ لیے کھڑاہے کہ اس روشنی سے راہ گیروں کو فائدہ پہنچتا ہے مگرخودوہ استفادے سے محروم رہتاہے۔
لہٰذا علم وتعلیم کا ثمرہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ پابندِ شرع اور اللہ والا ہوجائے اور جس کو علم سے یہ فائدہ حاصل نہ ہو تو اس کا علم ضائع اور بے کا ر ہے بلکہ وہ علم ہے ہی نہیں محض جہالت ہے ؎
جز یاد دوست ہر چہ کنی عمر ضائع ست
جز سرِ عشق ہر چہ بخوانی بطالت است
سعدیؔ بشوئے لوح دل از نقش غیر حق
علمے کہ راہ حق نہ نماید جہالت ست
(ترجمہ:یاد دوست کے سوا جو کچھ کروگے عمر ضائع کرنا ہے ،عشق کے اسرارورموز کے علاوہ جو بھی پڑھوگے باطل ہے،سعدی!دل کی تختی نقوش غیر حق سے دھوڈالو، وہ علم جوراہ حق نہ دکھاے سراسرجہالت ہے۔)
علم کی فضیلت وعظمت دین اسلام میں بہت ہی بلند و بالا ہے جس کی اہمیت حدیث مذکور سے واضح ہے؎
باغباں جیسے ضروری ہے گلستاں کے لیے
ویسے ہی علم ضروری ہے ہرانساں کے لیے
علم ہی سے ہے یہ تہذیب وتمدن یہ سماج
علم ہی سے بنی آدم نے ہے پائی معراج
سیف اللہ القادری
0 Comments