
مذہب اسلام جو پوری دنیا کے لئے باعث رحمت و سعادت ہے جس کے سائبان تلے ہی ساری انسانیت ہرقسم کی تپش سے محفوظ رہ سکتی ہے یہ اپنے روز اول سے ہی انسانیت دشمن اور باطل پرستوں کی نگاہوں میں کھٹکتا رہا ہے موجودہ دور میں اپنی یہ مذہب اپنی مکمل آن بان اور شان کے باوجود غیروں کے نشتر ہائے تنقید و تنقیص کا سامنا کر رہا ہے اور کیوں نہ کرے کہ دور حاضر میں اس مذہب کے ماننے والے ہی جب اس سے روگردانی کر رہے ہیں کہیں فحاشی کے نام پر تو کہیں آپسی تنازعات کے نام پر تو کہیں عیش پرستی اور بے عملی کے نام پر تو کہیں اس کے مقدس احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اسے پامال کیا جا رہا ہے. اس امر کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اپنے ہی کچھ شکست خوردہ اور احساس کمتری کے شکار نادان دوست اسلامی تعلیمات اور اس کے نقوش و خطوط پر طنز تعریض کرکے اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں اور بسا اوقات اپنے عمل سے اس دین مبین کی ایسی تشریح کرتے جس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا جبکہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے افعال و کردار سے باطل طاقتوں کی ایسی ذہن سازی کی جائے کہ جسے ملاحظہ کرکے یہ عش عش کر اٹھے اور اس کردار کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مجبور ہوجائیں۔
محسن انسانیت، پیکر رشد و ہدایت، انیس بیکساں، چارہ ساز درد منداں مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین متین کی تبلیغ کے لئے لوگوں کی جو ذہن سازی کی ہے وہ نصیحت سے زیادہ عمل پر مشتمل ہے موجودہ امت مسلمہ کو بھی اغیار کی اسی طرح زہن سازی کرنی چاہیے لیکن ہم مسلمان دوسروں پر نکتہ چینی تو خوب کرتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آخر فلاں شخص کی ذات سے جو عیوب وابستہ ہے ان کو کیسے ان سے جدا کیا جائے؟ کیسے ان کی ذہن سازی کی جائے؟ کیسے ان کو بتایا جائے کہ جس راہ پر آپ گامزن ہیں وہ راہ آپ کے لیے مضر ہے اور صحیح راہ صرف اور صرف وہی ہے جس پر چلنے کا تقاضہ اسلام کرتا ہے لیکن یہ بات جبھی ممکن ہے جب ہم یہ عزم کرلیں کہ خاطی کو نہیں خطا کو برا سمجھنا ہے ہم کو عیب سے متعلق اظہار کراہت کرنا ہے عیب کرنے والے سے نہیں۔
مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ یہ سوچ کر مطمئن ہے کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے تو یہ ثابت ہے کہ جہنم تو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے اور قرآن پاک میں جگہ جگہ کہا ہے "خالدین فیہا" کہ کفار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور ہم مسلمان اگر گئے بھی تو جہنم میں ہمارا قیام عارضی ہوگا لیکن کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ کل بروز محشر اگر کفار نے مالک یوم الدین کے سامنے یہ شکایت کردی کہ یوم جزا کے مالک... آج فیصلے کا دن ہے.. کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ حساب لیا جائے گا جب ایسی بات ہے تو ذرا ہم کو اتنا تو بتا دے کہ تیری نازل کردہ مقدس کتاب قرآن کریم جو کہ محبت،عبادت، معاملات کی درستگی،تمام مخلوق کے حقوق کی پاسداری، خلاصہ کلام یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے بہترین نظام پر مشتمل ہے لیکن جس قوم پر تیری یہ پاکیزہ کتاب نازل ہوئی وہ قوم تو ان قیمتی نصیحتوں کو نظرانداز کرتی نظر آئی! اگر مسلمان قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرتے اور انہی احکامات کے پیش نظر ہماری ذہن سازی کرتے تو اے خالق کائنات ہم بھی تیری توحید پر لبیک کہہ کر کفر و شرک سے نجات حاصل کر لیتے. مسلمان کا مسلمان ہونے میں کیا کارنامہ ہے سوائے اس کے کہ تو نے جسے مسلمان کے گھر پیدا کیا وہ مسلمان کہلائے گا اب چاہے وہ کتنا ہی بدتر انسان ہو! نہ حقوق اللہ کا لحاظ کرتا ہو نہ حقوق العباد سے وابستہ ہو لیکن یہی کہہ کر خود کو مطمئن کرتا رہا کہ جہنم میں ہمارا قیام عارضی ہے دائمی قیام تو کافروں کا ہوگا. تو اے خالق دو جہاں کیا مسلمان کے گھر میں پیدا ہونا جہنم سے نجات کے لیے کافی ہے؟ اور کیا غیر مسلم کے گھر میں پیدا ہونا جہنم رسید ہونے کی دلیل ہے! ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ تو پھر ان مسلمانوں سے اتنا تو سوال کر کہ یہ ہمارے پاس اتنا بہترین قانون کیوں لے کر نہیں آئے بلکہ یہ لے کر تو کیا آتے یہ تو خود اس قانون کو جگہ جگہ توڑتے نظر آئے۔
ذرا سوچیں! اس وقت خاموشی کے سوا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا اور اللہ کریم جانے کیا فیصلہ کرے گا ہمارے بارے میں، تو خدا کے لئے اپنے فرض کو سمجھیں دوسروں کے عیوب پر نکتہ چینی سے بہتر ہے کہ ان عیوب کو ختم کرنے کا طریقہ اپنائیں اپنے معاملات اپنے اخلاق، افعال و کردار کو بہتر کرکے دوسروں کی ذہن سازی کریں تو یقینا جیت حق کی ہوگی اور باطل کی ہمیشہ ہار ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی باطل حق کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہی رہے گا۔
شاعر نے کیا خوب کہا کہ؎
حسنِ کردار سے تو نورِ مجسم ہو جا
تجھ کو ا بلیس بھی دیکھے تو مسلماں ہوجائے
٭٭٭
0 Comments