
مدیح الرسول ﷺ باللغة العربیة
ببرکة اسمہ الذی الکریم معدن الکرم
بجاہ ذاتہ العظیم و الجلیل ذو الحشم
لماذا لا تحبہ الکوائن جمیعة
فانہ مکرّم حبیب بارئ النسم
فخارہ جلیلة کریمة عظیمة
ھو الذی عطاہ ربہ خزائن الکرم
ھوالذی سکینة ورحمة لکلنا
ھو الذی الرسول ھادی لسائر الامم
بنسبة الذی بناہ ربنا بناء کل
آجاء فی الکلام "خیرامة" لنا؟ نعم
آ نفعل الرسوم فی الحقیقة ردیة
و سنة الرسول نترک الحکیم و الحکم
و جاء فی الکلام انہ عدونا اللعین
اہ! نطیعہ الخبیث و الرجیم و الخصم
ھو الرؤف و الرحیم و القسیم و النعیم
فسلہ ماتشاء سحرؔ لان قاسم النعم
محمد شبیر سحرؔ القادری
نعت رسولﷺ(اردو)
خدا نے عظمتِ رسولِ کن فکاں بڑھائی ہے
زمیں سے آسمان تک انہیں کی مصطفائی ہے
اے بی حلیمہ تیری گود میں ہیں شاہِ دو جہاں
زہے نصیب تیری ٹھوکروں میں اب خدائی ہے
سجالو عشقِ فخرِ دیں سے تم دلوں کو زاہدو!
کہ ما حصل عبادتوں کا حبِّ مصطفائی ہے
صبا! ترا مقام ہے مرے دلِ نیاز میں
درِ حبیبَ حق نما سے تو گذر کے آئی ہے
ہیں ہیچ حسنِ دو جہاں مری نگاہِ عشق میں
ضیائے روئےمصطفی نگاہِ میں سمائی ہے
غموں کی دھوپ میں جھلس رہی ہے میری زندگی
نگاہِ التفات ہو حبیبِ رب دہائی ہے
حرم کی سر زمیں پہ اب چلو اے قدؔسئِ غریب
درِ رسول پہ ہر اک کی آرزو بر آئی ہے
سید اولاد رسول قدسیؔ مصباحی
نعت(فارسی)
گل حسیں ببیں دمے گل شہ انام را
ز رنگ و بوے دائمی بپر دل مشام را
ز بوے خویش پر شہا و با پیام حاضری
رواں بکن بسوے من نسیم خوش خرام را
دعاے نا قبول را رفاقت کرم بدہ
بگوش تا خدا کند فغان صبح و شام را
چہ کم شود ز بحر تو کہ ہست دادۂ خدا
نہال کن گہے شہا ز قطرہ تشنہ کام را
اشارتے بکن شہا غمم دونیم ہم شود
بیک اشارہ کردہ ای تو شق مہ تمام را
ز گفت بستہ است لب بعلم حرف ناشناس
تمام کن ز رحمتت کفیلؔ نا تمام را
کفیلؔ فتح پوری مدرسہ شمس العلوم
سنگاوں ،فتح پور، یوپی
نعت رسول ﷺ(انگلش)
Astonishing and amazing abode of our prophet
A centre of learning abode of our prophet
Thousands of the angels are present around it
So sacred and charming abode of our prophet
Believers love prophet more than their lives
Everybody's darling abode of our prophet
Stars and milky ways and sky bow to it
Startling ,sparkling abode of our prophet
Whoever sees it goes on seeing for long time
Every time scintillating abode of our prophet
Whoever visits it will go to the heaven
Giving us an inkling abode of our prophet
Every body confirming whoever sees it "Aini"
Heaven like a thing abode of our prophet
By: Sayed khadime Rasul Aini
نعتِ پاک (اردو)
دیارِ دل میں الفتِ نبی کے دیپ جل گئے
بھٹک رہے تھے جو تصوّرات وہ سنبھل گئے
نہ کوئی اور جا سکا یہ صرف اُن کی شان ہے
حرم سے عرش، عرش سے وہ سُوئے لَم یزل گئے
کِیا تھا اُن کے اِک سفر پہ غور ہم نے ایک شب
زمیں زماں، خرد گماں کی قید سے نکل گئے
اُنہیں ملی ہیں کشورِ سخن کی بادشاہیاں
جو لفظ نغمہِ ثنائے مصطفٰے میں ڈھل گئے
خیالِ سجدہ آگیا جمالِ خضرٰی دیکھ کر
تھا اختیار سر پہ قلب و جاں مگر مچل گئے
بیان آبؔ کیا کرے کمال و سطوت و غضب
نبی کا لمسِ پا ملا تو سنگ بھی پگھل گئے
✍ کاوشِ ابو المیزاب اویس آبؔ رضوی کراچی / پاکستان
نعتِ نبیﷺ (اردو)
جہان ممکنات میں تو رب کا شاہکار ہے
نگاہ حق نگر میں تیری ذات بے غبار ہے
مراتب شہ رسل ہیں ماورائے ذہن و فکر
بزرگ کائنات میں وہ بعد کردگار ہے
جمال تیرا چھا گیا چھٹی ہیں ساری ظلمتیں
ترے ہی نور کا فضاے دہر پر حصار ہے
ترے قدم کے ہیں نشاں جبین آسماں پہ ثبت
فلک کی جو ہے کہکشاں وہ تیری رہ گزار ہے
زمانہ چال چل گیا سہارا تیرا چاہیے
امان گاہ انس وجاں فقط ترا دیار ہے
تو سلسلہ ہے سرورا ظہور کائنات کا
ترا وجود مرحبا تجھی پہ جاں نثار ہے
سنائے دردؔ حال دل قریب سے تمہیں شہا
مجھے بھی اب بلایئے کہ دل یہ بے قرار ہے
مسعود احمد درد ؔجالونی مدرسہ شمس العلوم سنگاوں، فتح پور، یو پی
نعتِ پاک (اردو)
غلام جانبِ دیارِ شاہ چل پڑے سنو
لبوں پہ ان کے ذکر کے سجے ہیں زمزمے سنو
نظر نظر میں آرزوئے دید کی ہے جستجو
بہت ہیں دل میں خواہشیں، بڑے ہیں ولولے سنو
قدم قدم پہ ہے کرم، حرم میں چار سو بہم
ہزار رحمتوں کے در نبی کے ہیں کُھلے سنو
جو کشتگانِ شوق ہیں، ہر آن ہر گھڑی یہاں
لبوں پہ گُل درود کے انہی کے ہیں سجے سنو
دل و نظر کو مل گئ جِلا درِ رسول پر
ہیں پیرہن بھی روح پر سجے نئے نئے سنو
دل و جگر اجالتے ہیں سوزِ ہجرِ شاہ سے
فسونِ دردِ عشقِ شہ سے ہم نہیں بچے سنو
نگارِ گلستاں مرے نبی کے دم قدم سے ہے
گلاب، زینبؔ ان کے واسطے سدا کِھلے سنو
سیدہ زینبؔ سروری
نعتِ رسولﷺ (اردو)
ہماری زندگانی پر کرم کرم حضورؐ ہیں
کہ رہنماہمارے ہر قدم قدم حضورؐہیں
چلیں ہیں اُنکی جو روش وہ کامیاب ہرجگہ
وہ تشنہ کام کیاہوں جنکےدم بدم حضورؐہیں
گلی گلی ڈگرڈگر ہیں رحمتوں سےتربتر
جہاں جہاں پہ زندگی کےجام جم حضورؐہیں
ہیں جن کےصدقےرب نےتکمیل دوجہان کی
وہی توایک رہبرِعرب عجم حضورؐہیں
سکونِ دل تو انؐ کےاک طریق پر ہی ہوعطا
حقیقتاً یہ زندگی کے پیچ وخم حضورؐ ہیں
پتہ چلے اسی سے ہے بلند کتنا مرتبہ
ہیں جن کانام عرش پربھی ہےرقم حضورؐہیں
ہیں جن کے فیض سے عمر بھی حضرتِ عمرؓ بنے
دعاسےجن کی دِیں ہوا عمر میں ضم حضورؐہیں
وہی ہیں دوجہاں میں کامیاب اور کامران
ہیں جن کی زندگانی کے سکون وغم حضورؐ ہیں
محمدعرفان ، کرناٹک، انڈیا
غزل(اردو)
ہمارے یار کوزمانے کی نظرلگی تو کیوں
تھے اوربھی حسیں نظر اسی پہ جا ٹکی تو کیوں
نہ جانے کتنی شمعِ مدّتوں سےجل رہی ہیں جب
ہمارے گھر کی شمّع اتنی جلدی گر بجھی تو کیوِں
ہمارا یار جو تھا دنیا چھوڑکے چلا گیا
اب اور عیرے غیرے سے کروں میں دوستی تو کیوں
زمانہ ہر غریب کو کیوں بد نصیب کہتا ہے
نصیب میں خدا نے بدنصیبی ہی لکھی تو کیوں
قفس میں تھے ڈرے ہوےُ پرندے اور بھی بہت
مگر ہمارے ہی گلے پہ وہ چھری پھری تو کیوں
زیادہ کی طلب ہمارے دل نے جب نہ کی تھی تو
خدا نے جو دیا تھا ہمکو اس میں کی کمی تو کیوں
بہت سی اور صورتیں تھیں محشرِ خیال میں
مِرے تصوّرات پر وہ شکل ہی جمی تو کیوں
محشرؔ گونڈوی
غزل(اردو)
عمل عمل مرے لیے نصاب سی ہے زندگی
وہ تربیت نواز جو کتاب سی ہے زندگی
تجسس و تمنا کو نکھارتی ہوئی بہت
کسی حسین چہرے کےنقاب سی ہے زندگی
اسے گزارنے کا جن کو ہے شعور ان کی دیکھ
مسالوں کے خاروں میں گلاب سی ہےزندگی
یہ تب کھلا جب ایک پر شباب آیا زیست میں
سرور سی ہے زندگی شراب سی ہے زندگی
کسی کی برہمی و مہربانی کے طفیل میں
کبھی تو آگ اور کبھی تو آب سی ہے زندگی
خوشی سے دور ہوں بہت میں کوششوں کے باوجود
کہ میرے نام غم کے انتساب سی ہے زندگی
سمجھنےوالےسمجھےبھی جیےبھی اسکوشان سے
معمہ سی نہیں ذکی ؔخطاب سی ہے زندگی
ذکی ؔطارق بارہ بنکوی
غزل(اردو)
عوام کےلئے ہزار امتحان ہو گئے
جوبے ضمیر لوگ تھے وہ حکمران ہو گئے
لگی ہے آگ عشق کی دلوں کے دشت زاروں میں
محبتوں کےاب وہ قصےداستان ہوگئے
زمین پر بچھائے اپنے دام کچھ فلک نے یوں
کہ اپنی جان کے حریف،خود کسان ہو گئے
ہوائیں شہر شہر جب مہاجرت کی چل پڑیں
مکان دار لوگ بھی بے مکان ہو گئے
شناخت بھی تو چھین لی منافقت کی آگ نے
غبار راستوں کے کتنے خاندان ہو گئے
مخالفت ہواؤں کی بڑھی تو کشتیوں کے خود
سمندروں میں بھی حریف بادبان ہو گئے
قلم کو استعارہ سازیوں کا وہ جنوں ہوا
فسانے جو رقم ہوئے وہ چیستان ہو گئے
قلم کو استعارہ سازیوں کا وہ جنوں ہوا
فسانے جو رقم ہوئے وہ چیستان ہو گئے
مَیں شہرزاد شت کی طرف نکل کے کیا چلا
کہ مرشدینِ شہر، میرے سالکان ہو گئے
بحال کون کرتا پھر ہمارے اعتماد کو
خود اپنی ذت سے ہمیٖں جو بدگمان ہو گئے
کچھ اس اداسے مجھ سے ہی مجھےطلب کیا گیا
مرے حواس و ہوش وقفِ امتنان ہو گئے
مرے سخن کو نے نواز نے جو چھیڑا دشت میں
تو میرے ہم نوا تمام نیستان ہو گئے
ہوس میں زر کی جب امینؔ زاد بوم چھُٹ گئی
جہاں میں منتشر بہت سے دودمان ہو گئے
امینؔ، میہماں ہوا جو لغزشوں کے دشت میں
قدم قدم پہ حادثے بھی میزبان ہو گئے
امینؔ جس پوری
غزل(اردو)
حسیں حسیں سے خواب جو دکھا رہے ہیں صبح و شام
دراصل کاجل آنکھ سےچرا رہے ہیں صبح و شام
ہم اپنے قلب میں جنھیں بسا رہے ہیں صبح و شام
وہ اور ہی کسی سے دل لگا رہے ہیں صبح و شام
ندی ،پہاڑ ،جھرنے،برگ و گل، چرند اور پرند
سبھی خدا کی حمد گنگنا رہے ہیں صبح و شام
چھڑا ہی دیں گے ایک دن ہماری خو ئے مے کشی
جو شربتی نگاہوں سے پلا رہے ہیں صبح و شام
نہیں گوارہ ایک پل کی بھی جدائی آپ کی
بظاہر آپ سے خفا خفا رہے ہیں صبح و شام
خدا بھی ایک ، قبلہ ایک ، پھر بھی شرک کے شکار
کہاں کہاں نہ جانے سر جھکا رہے ہیں صبح و شام
کریں گے چھلنی قلب اپنے ہی وہ ایک دن ' حسنؔ'
جو نفرتوں کے خار ابھی اگا رہے ہیں صبح و شام
حسنؔ شمسی حیدرآباد
غزل(اردو)
جنون و عشق کا علم اٹھاکےدیکھتےہیں ہم
رہِ خداپہ جان تک لٹاکے دیکھتے ہیں ہم
عداوتوں رقابتوں سےآگ لگ چکی یہاں
محبتوں کا اک جہاں بساکےدیکھتےہیں ہم
بہت سہےہیں ظلم کےبھی تیرہم نےآج تک
ذراکمان ہاتھ میں اٹھاکےدیکھتے ہیں ہم
کہ وحشتوں کاظلمتوں کااب یہاں پہ راج ہے
چراغ روشنی کا اک جلاکےدیکھتےہیں ہم
رہِ حیات میں قدم قدم پہ ہیں رکاوٹیں
پہاڑسب یہ عزم سےہٹاکےدیکھتےہیں ہم
جہانِ خون میں اٹھو امان وامن کی فضا
نفاذِ دینِ مصطفیٰ سے لا کے دیکھتے ہیں ہم
یہ قوم گہری نیند میں توکب کی سوئی ہوئی ہے
اسےبھی غفلتوں سےاب جگاکےدیکھتےہیں ہم
محمد زاہد، پیرمحل
غزل(اردو)
چپت گیا ہے کوئی دھر مذاق ہی مذاق میں
کہ پکڑے بیٹھا ہوں میں سر مذاق ہی مذاق میں
بڑا ہی خوش مزاج سا ملا تھا ایک آدمی
پلائی چائے ڈھابے پر مذاق ہی مذاق میں
اکیلے پن کی داستاں جو ساری میں نے کی بیاں
ہنسا وہ زور سےمگر مذاق ہی مذاق میں
پھنسانے واسطے کو گھر بلایا مجھ کو چائے پر
پہنچا میں بھی بھاگ کر مذاق ہی مذاق میں
جوں ہی پڑی مری نظر اس آدمی کی بیٹی پر
وہ بن گیا مرا سسر مذاق ہی مذاق میں
طلاق یافتہ ہے وہ نہ ہونے دی مجھے خبر
یوں پھوڑا میں نے اپنا سر مذاق ہی مذاق میں
وہ لائی چار لاڈلے جہیزمیں بڑے بڑے
بلائیں لے لیں میں نے سر مذاق ہی مذاق میں
تکوں بھی ان کی ماں کو گر تو دیکھیں مجھ کو گھور کر
بنی ہوئی ہے جان پر مذاق ہی مذاق میں
مقصود احمد ملک
غزل(اردو)
تم آکے آہِ آتشیں کو وصل کی لگام دو
رواں ہے جو فراق میں وہ سیلِ اشک تھام دو
اِدھر ہے عشق نا مراد اُدھر زمانہ تیغ دار
ہے طائر ۔عقاب اک بچھے ہوئے ہیں دام دو
شراب ۔ شیشہ میں تو اب نشہِ نہیں ہے ساقیا
تم اپنی چشم مست سے خصوصی ایک جام دو
کبھی تو ساتھ چند پل گزار لیں نشاط کے
کبھی تو اے مثال ۔ گل گلابی ایک شام دو
گزر نہ جائے سنگ در پہ ہی تمام زندگی
اے شاہ حسن سلطنت کا پورا انتظام دو
میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں چلچلاتی دھوپ میں
اے کاروان زندگی کہیں تو کچھ قیام دو
کبھی چمنعذار میں کبھی ہوں خارزار میں
جو مہر دو مدام دو جو قہر دو مدام دو
نہ ضد کرو نصیب کے لکھے ہوئے کو مان کر
جناب ساز ؔچاہتوں کو حسرتوں کا نام دو
سازؔ دہلوی
غزل(اردو)
کھلی کھلی سی دھوپ ہے فضا بھی خوشگوار ہے
سرور ہے چمن چمن یہ موسمِ بہار ہے
بہار جیسی زندگی میں اب کہاں بہار ہے
چلا چلی کا وقت ہے نہ جیت ہے نہ ہار ہے
اداس چہرہ آنکھیں نم عجیب حالِ زار ہے
نہ جانے کتنے دکھ لیے یہ زیست سوگوار ہے
قدم قدم پہ زندگی میں امتحاں ہی امتحاں
چلے بھی آ ؤ ہم نشیں کہ دل یہ بے قرار ہے
غمِ حیات بھول کے ذرا سا مسکرائیے
جہاں میں آپ کے ہی دم سے یہ حسیں نکھار ہے
خدارا ساتھ آئیے یوں اشک مت بہائیے
کٹھن ضرور ہے مگر سفر یہ ساز گار یے
برا ہے وقت شازیہؔ کوئی کسی کا یاں نہیں
فقط خدا کی ذات پر ہی ہم کو اعتبار ہے
شازیہؔ طارق
0 Comments