
اردو ادب کی اہم شاخ بن چکی ہے۔ جس میں کسی بھی سنجیدہ غزل کی ہئیت ، اوزان اور بحائر کے مطابق مزاح نگاری کی جاتی ہے۔ بظاہر یہ کام بہت آسان لیکن معیاری پیروڈی کرنا کافی مشکل کام ہے۔ کیونکہ اصل کلام کے معیار و حسن کے مطابق اسی وزن و بحر میں سے مزاح اخذ کرنا ہوتا ہے اور یہ بھی خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کلام کہیں اسفال و لچر پن کا شکار نہ ہو۔ یوں پیروڈی باقاعدہ ایک فن ہے۔
گوشۂ ادب کی اس لڑی میں ہم چند شعرائے کی پیروڈیز تحریر کریں گے۔
پیروڈی سے پہلے اصل کلام کا ایک آدھ مصرعہ اور شاعر کا نام بھی دے دیا جائے تاکہ پڑھنے والے کے ذہن میں اصل کلام اور اسکا مزاج تازہ ہوسکے۔
علامہ اقبال کی چند مشہور زمانہ غزلوں کی پیروڈیز دیکھیں:
" ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان ، نئی آن " کی پیروڈی :
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
تولہ کبھی ماشہ، کبھی سکھر، کبھی مردان
بُت خانے میں اک ایک کو تھا دعویٰ ایمان
کعبہ جو بنایا تو نہیں کوئی مسلمان
کرسی پہ ہے مومن کبھی مومن پہ ہے کرسی
ایوان کی زینت کبھی رسوا سرِ میدان
" لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری " کی پیروڈی:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
جیب نوٹوں سے لبالب ہو خدایا میری
تنگ آیا ہوں پڑھائی سے، اب ایسا ہو جائے
ساری دنیا سے کتابوں کا صفایا ہو جائے
" تجھے یاد کیا نہیں ہے میرے دل کا وہ زمانہ " کی پیروڈی:
تجھے یاد کیا نہیں ہے؟ تجھے یاد کیا دلانا !
قبل از " قبول" تو تھے شب و روز شہنشانہ
تیری کنبہ پروری سے مرا دل عذاب میں ہے
کبھی رُعبِ سسروانہ، کبھی قہرِ سالیانہ
میرے نوجوان ساتھی ، نہ اِسے مذاق سمجھیں
انہیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے شوہرانہ
اور" ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں " کی پیروڈی:
ستاروں سے آگے جہاںاور بھی ہیں
پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں
ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے
ابھی تو تیرے امتحاں اور بھی ہیں
یہاںصرف تھانے ہی بکتے نہیں ہیں
یہاں پر کئی ایسی تھاں اور بھی ہیں
ہم"گوشہء ادب"میں یونہی قیمتی اقتباسات شائع کرتے رہیں گے ان شاءاللہ۔ ززز
0 Comments