مصطفی جان رحمتﷺ کی تشریف آوری

 

Image result for ‫آمد مصطفی‬‎

  انسانیت کا سب سے عظیم انقلاب:مصطفی جان رحمتﷺ کی تشریف آوری

اُمید کی کرنیں دَم توڑ رہی تھیں۔ اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔معاشرتی ناہمواریوں نے کھلتی کلیوں کو کمھلا دیا تھا۔ کتنے ہی آنسو دامنوں میں جذب ہو چکے تھے۔ ماؤں کے کلیجے چھلنی تھے۔ درندوں نے اپنی ہی بچیوں کو ماؤں کی گودوں سے چھین کر زمیں کی گہرائیوں میں زندہ دفن کر دیا تھا۔ بچیوں کی گھٹی گھٹی چیخوں اور مدھم پڑتی نبضوں نے بھی بے رحمی کے پتھروں کو موم کا جگر عطانہیں کیا۔اَدھ کھلی کلیوں کو صبح صبح  گورِ غریباں کی نذر کرنے والے بے رحم انساں شام کی محفلوں میں درندگی کی داستاں ہنس ہنس کر بیان کرتے۔ احساسِ انسانیت مر چکا تھا۔ شرک نے عقیدے کی بزم کو ویران کر ڈالا تھا۔ معبودانِ باطلہ کے آگے جبیں سجدہ ریز تھی۔ حیا کب کی بک چکی تھی۔ شراب عام تھی۔ طہارت عنقا تھی۔ فکر میلی تھی،نظر پراگندہ تھی۔ کردار کی چمک ماند تھی۔ افکار پر برسوں کی گرد نے بسیرا کر رکھا تھا۔
راگ وراگنی اور عیش و طرب زندگی کا سرمایہ کہلاتے۔ خواتین کو محض تفریحِ طبع کا ذریعہ جانا جاتا۔ بے غیرتی کا دور دورہ تھا۔ انسانی قباتار تار تھی۔ حیوانی خصلتیں تمغۂ افتخار تھیں۔ ہر طاقت ور غریب کی عزت کا سوداگر تھا بازارِ دنیا میں عصمتیں نیلام تھیں کوئی دُکھی دلوں کا سہارا نہ تھا، ایسی گھٹی گھٹی فضا میں کائنات انقلاب کو ترس رہی تھی۔ ایسا شکستہ دور عالمِ انسانیت نے کبھی نہ دیکھا تھا ایسی معاشرتی ناہمواری کبھی وارد نہ ہوئی تھی فضا ایسی بوجھل کہ- الامان والحفیظ۔
یہ نظام قدرت ہے اندھیروں کے بعد اُجالوں کا دور آتا ہے۔ ظلم کے بادل چھٹتے ہیں تواُجالوں کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں۔ انسانیت کے لیے سب سے مہیب دور کیا آیا کہ رب کی رحمت جوش پر آئی۔ ایک ایسی صبح نمودار ہوئی جس نے ساری انسانیت کو نہال کر دیا۔ اُسے بھیجا گیا جس کی آمد کا سبھی کو انتظار تھا،جس کے لیے کائنات آراستہ کی گئی تھی، جس ذات کے لیے کونین کی تخلیق ہوئی تھی۔ جس کا آنا انسانیت کا نقطۂ کمال ٹھہراجسکے بارے میں قرآن کہتا ہے:
’’اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر‘‘ (سورۃالبقرۃ:۸۹)
    ۱۲؍ربیع الاول کی ایک صبح تھی۔ جب انسانیت کا نصیبہ بیدار ہو گیا۔ایسی صبح کبھی نہ آئی۔ جس کے دامن سے احسان کا سویرا نمودار ہوا۔ زمانہ پُر نور ہوگیا۔ بزم ہستی نکھر گئی۔جانِ رحمت کے نغمے بلند ہونے لگے۔ اُفق سے تا بہ اُفق شہرہ ہونے لگا۔ رفعتِ ذکر پاک کا یہ عالم کہ رب کریم شان بیان کررہا ہے-وَرفَعنالَک ذِکرک-سے مقام محبوبیت کی اُن رفعتوں کو باور کرا رہا ہے جہاں عقل کی رسائی بھی نہیں۔فکرِ انسانی رفعتِ ذکر کا ادراک نہیں کرسکتی۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کیا آئے انقلاب آگیا۔ پتھر دل موم ہونے لگے۔ توحید کے نغمے گونجنے لگے۔ خزاں کے بادل چھٹ گئے۔ میلے دل مثلِ آئینہ ہوگئے۔اللہ اللہ ؎
وہ عہد ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے
کردار دمکنے لگے۔ افکار چمکنے لگے۔ اطوار مہکنے لگے۔ مُرجھائی کلیاں کھِل اُٹھیں۔ ٹوٹے دل جُڑنے لگے۔ صبحِ امید نمودار ہوئی۔ انسانیت کو رُسوا کرنے والے عزتوں کے سفیر بن گئے۔ رہزن رہبر ہوگئے۔تھمی تھمی ہوائیں مشک بار ہوگئیں۔ خزاں کے نشانات مٹ گئے۔ گلشن ہرے بھرے ہوگئے۔ بلبلیں چہکنے لگیں۔ قمریاں نغمہ سرا ہوگئیں۔ توحید کے نغمے بلند ہونے لگے۔ پستیوں میں بسنے والے ہم دوشِ ثریا ہوگئے   ؎
اِک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
خاک کے ذروں کو ہمدوشِ ثریا کردیا
    نورِ کائنات بن کے شاہِ ذی وقار آگئے۔ رحمتِ کردگار آگئے۔ محسنِ انسانیت آگئے۔ نور کے باڑے بٹنے لگے۔ ایسی پُر نور ساعت کہ جس کے  بطن سے وہ سویرا نمودار ہوا کہ اب کسی سویرے کی ضرورت باقی نہ رہی ۔ پہلے بھی سویرے ہوتے تھے۔ پھر اندھیری چھاجاتی۔ پہلے بھی انبیا آتے تھے، پھر انسانیت ہادی کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتی تھی۔ انسانی وقار ختم ہوتا تھا تو بزمِ ہستی کواُجالنے والے آتے تھے۔ تاریکی بڑھتی تو ہادی کی ضرورت محسوس ہوتی۔ ۱۲؍ربیع الاول کو وہ ہادی آئے جن کی ہدایت سبھی کے لیے ہے۔ جن کی نبوت ایسی کامل کہ اب کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔ انبیا کا آنا جانا اسی آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری کے لیے تھا۔ وہ آئے تو کائنات کا نکھار بن کر، بزم ہستی کی بہار بن کر،کونین کا وقار بن کر، غمگیں دلوں کا قرار بن کر، قیامت تک انھیں کا سکہ چلے گا، اولین وآخرین انھیں کے کرم خاص سے حصہ پائیں گے۔     
٭٭٭

 

0 Comments