التوکل علی الله" اللہ پر بھروسہ رکھنا"
خدا وند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :
”ومن یتوکل علی الله فھو حسبہ “
جو اللہ پر توکل کرتا ہے پس وہ اس کے لئے کافی ہے۔
ہم انسانوں کو جو حقیقتیں حضرات انبیاءعلیہم السلام کے ذریعے معلوم ہوئی ہیں،ان میں سے ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کارخانہ ہستی میں جو کچھ ہوتا ہے اور جس کو جو کچھ ملتا ہے یا نہیں ملتا ،سب براہِ راست اللہ تعالی کے حکم اور فیصلہ سے ہوتا ہے اور ظاہری اسباب کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ چیزوں کے ہم تک پہنچنے کے لیے صرف ذریعے اور راستے ہیں۔
جس طرح گھروں میں پانی جن نلوں کے ذریعہ پہنچتا ہے وہ پانی پہنچانے کے صرف راستے ہیں ،پانی کی تقسیم میں ان کا اپنا کوئ دخل اور حصہ نہیں ہے ۔
اس حقیقت پر دل سے یقین کر کے اپنے تمام مقاصد اور کاموں میں صرف اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ،اسی سے لو لگانا ،اسی سے امید اور اسی سے دعا کرنا ، بس اسی طرزِعمل کا نام دین کی اصطلاح میں توکل ہے۔
توکل ایمان کی شرط ہے۔جب اس ذات پر توکل نہیں جس پر ایمان لائے ہیں تو ایسے ایمان کا کوئ حاصل نہیں ،جب کسی انسان کو توکل علی اللہ کی دولت نصیب ہو جاتی ہے تو اس کے لیے مشکل اور کٹھن راہوں سے بھی گزرنا آسان ہو جاتا ہے۔کیونکہ اس کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہی ہوگا جو میرا رب چاہے گا اور وہ اپنے رب پر توکل کر کے آسانی کی امید رکھتا ہے۔
توکل یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھے رہیں، اور جب کوئی یاددہانی کروائے تو کہیں "اللہ مالک ہے۔" توکل یہ ہے کہ ممکنہ طور پر جو دنیاوی اسباب موجود ہیں ان کا استعمال کیا جائے، پھر دعا کی قبولیت کے اوقات میں ڈھیر ڈھیر دعا کریں،اپنے کندھوں سے گٹھڑی اتار کے اللہ کے حوالے کر دیں۔ اور پھر جو بھی فیصلہ وہ کرے، اسے قبول کریں۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اکثر یا تو صرف اسباب اپناتے ہیں اور دعا پر زور نہیں دیتے، یا پھر کوشش کئے بغیر خالی خولی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
آپکی آنسوؤں سے بھیگی ہوئی کوئی بھی رات، اور تکلیف میں گزرا ہوا کوئی بھی دن کبھی رائیگاں نہیں جاتا کیونکہ زندگی کا ہر آسان اور تکلیف دہ لمحہ اللہ سبحان تعالی کے کسی عظیم منصوبے کا حصہ ہوتا ہے جو کبھی تو جلدی سمجھ میں آ جاتا ہے اور کبھی کچھ وقت لگتا ہے۔
جب دل سے آپ ایک بار کہہ دیتے ہیں ناں کہ کافی ہے مجھے اللہ، ہاں! مجھے اللہ کافی ہے تو روح کے اندر تک سکون تحلیل ہو جاتا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ جو اتنے عظیم عرش کا رب ہے، جس نے پوری کائنات سنبھال رکھی، اس عظیم ذات پر میرا بھروسہ ہے۔ جب سب سے بہترین وکیل آپکی پشت پر ہے تو پریشان کیوں ہوں؟
صرف رب کو نہ بتائیں کہ میری پریشانی بہت بڑی ہے، پریشانی کو بھی اچھی طرح سمجھا دیں کہ میرا رب کتنا عظیم ہے۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
"ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ"
جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا(طلاق: 3)
نیز اللہ تعالی نے فرمایا:
"ان کنتم آمنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین"
اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم مسلمان ہو(یونس: 84)
نیز ارشاد الہی ہے:
"وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مؤمنین"
تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے(المائدہ: 23)
نیز ارشاد باری تعالی ہے
"وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون"
مومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے (التوبہ: 51)
ان آیات پاک میں اللہ تعالی نے مومنوں کو اللہ تعالی کی ذات پر توکل کا حکم اور اس کی انتہائی ترغیب دی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں اللہ تعالی پر توکل وبھروسہ کی ترغیب دی ہے،
چند احادیث پاک ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"یدخل الجنۃ من امتی سبعون الفا بغیر حساب قالوا من ہم یا رسول اللہ؟ قال ہم : الذین لا یسترقون، ولا یتطیرون، ولا یکتوون، وعلی ربہم یتوکلون"(مسلم: 321)
میری امت کے ستر ہزار آدمی بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدفالی نہیں لیتے، آگ سے نہیں دغواتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا:
"لو انکم کنتم توکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقتم کما یرزق الطیر، تغدو خماصا و تروح بطانا"(ترمذی: 2266)
اگر تم لوگ اللہ تعالی پر ایسا توکل کرو جیسا کہ اس کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے، جیسے ایک پرندہ کو رزق ملتا ہے، صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتا ہے۔
اسی بنا پر امام احمد فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ کسب اور جدوجہد ترک کردیا جائے، بلکہ یہ اس امر پر دلیل ہے کی رزق کی طلب اور اس کے لئے جدوجہد کی جائے"۔ اس بات کی مزید وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت والے واقعہ سے ہوتی ہے کہ آپ اسباب اختیار کرتے ہوئے غار ثور میں چھپ گئے، قریش آپ کی تلاش میں غار کے منہ پر پہنچ گئے ، گھبراکر ابو بکر رضی اللہ نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
"لو ان احدہم نظر تحت قدمیہ لابصرنا فقال :ما ظنک یا ابا بکر باثنین اللہ ثالثہما "(بخاری: 3380، مسلم: 4389)
اگر قریش کا کوئی ایک آدمی بھی اپنا پیر ہٹاکر دیکھے تو ہمیں دیکھ لے گا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! ان دونوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کی طرف غزوہ ذات الرقاع سے واپس آرہے تھے کہ ایک جھاڑی والی وادی میں دوپہر کو قیلولہ کے لئے اترے، جس کو جہاں جگہ ملی ادھر ادھر آرام کرنے لگے، آپ بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے سوگئے اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکادی، جب سارے لوگ سوگئے تو بے خبری میں موقع کو غنیمت جان کر ایک مشرک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخت سے تلوار اتار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوگیا ، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی، اس کافر نےبڑے تکبر سے کہا:اے محمد! آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے اطمینان وسکون سے جواب دیا: اللہ۔ یہ سننا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئ، آپ نے اٹھالی اور اس کافر سے فرمایا: اب بتاؤ تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا: کوئی نہیں! آپ نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری: 3822) ۔
اللہ پر توکل کا ایک اور ثمرہ دیکھنا ہو تو ابراہیم علیہ اسلام کی بیوی ہاجرہ کاواقعہ پڑھئے،جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے شیر خوار بیٹے اسماعیل اور اس کی ماں ہاجرہ کو مکہ کی غیر آباد سنسان وادی میں بیت اللہ کے پاس ایک درخت کے نیچے چھوڑ کر اور ایک مشکیزہ پانی اور کچھ دے کر واپس جانے لگے تو بے سہارا ہاجرہ نے اپنے شوہر ابراہیم سے دریافت کیا : اے ابراہیم ! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟ جبکہ یہاں کوئی چیز ہے نہ انسان ہے؟ابراہیم علیہ السلام نے مڑکر تک نہیں دیکھا اور چلتے رہے، کئی بار دریافت کرنے پر تیسری دفعہ ہاجرہ نے پوچھا: کیا آپ کو اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں! اللہ نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ یہ سن کر ہاجرہ نےجو اللہ پر توکل وبھروسہ کی بات کہی وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، انہوں نے کہا: "جب یہ بات ہے تو اللہ تعالی ہم ماں بیٹے کو ہلاک وضائع نہیں کرے گا" (بخاری: 3111)
پانی کا ختم ہوجانا اور ہاجرہ علیہ السلام کا پانی کی تلاش میں صفا ومروہ پہاڑیوں کے مابین سات چکر لگانا اور اللہ تعالی کا ان پر رحم کھاکر جبریل علیہ السلام کو بھیجنا اور ان کا زمین پر پیر مار نا جس سے زمزم کا ابل پڑنا مشہور واقعہ ہے اور ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ کی بہترین مثال، جس کی نظیر کہیں اور کسی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔
توکل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے آگ ٹھنڈی کر دی جاتی ہے جو یوسف کو یعقوب سے ملوا دیتا ہے جو شدید طوفانوں میں کشتی نوح پار لگا دیتا ہے جو دریا میں راستہ بنوا دیتا ہے۔ جو پانی پر گھوڑے دوڑا دیتا ہے تو پھر کیا تم اپنے اس رب پر توکل نہ کرو گے جو نا ممکن کو ممکن کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
اگر آپکو یہ لگتا ہے کہ آپ سب کچھ کھو رہے ہیں کچھ ایسا جو آپکو بہت عزیز ہے تو یہ بات یاد رکھیں کہ درخت اپنے تمام پتے ہر سال کھو دیتے ہیں لیکن پھر وہ اچھے دنوں کے انتظار میں رہتے ہیں اور وہ بہار کا موسم بھی آتا ہے وہ پھر سے ہرے بھرے ہوجاتے ہیں اگر آپ کوئی بہتر چیز کھو رہے ہیں تو یقین رکھیں اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین نوازے گا۔
جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کامیاب اور سرخرو ہو اس کو چاہیے کہ صرف اللہ رب العزت کی ذات پر بھروسہ کرے جو تمام کامیابیوں کی بنیاد ہے۔
٭٭٭
آیت علی ،جہلم ،پنجاب،پاکستان

0 Comments