دل پر مہر


 



یہ ہو کـــر سنگ دل کــیسے بھلا دل توڑ دیتےہیں 
بــلاؤ گــر بـھـلائی کــی طــرف رخ مـوڑ دیتےہیں 

وہـــی ہیں لائــقِ تحســـین رہبــر قــوم و ملت کے
جو لوگوں کو بچھڑنے سے ہی پہلے جوڑ دیتےہیں 

جــو ہوتے لب کشا ہیں میرے مولـیٰ کی اہانت پر
جوابـوں سے ہم ان کے لب نہیں منہ توڑ دیتےہیں 

دلوں پرجن کےمہریں ثبت ہوں کیا انکو سمجھانا
 انہیں تم کــیا سـحر ان کو پیمبر چھوڑ دیتےہیں 

مـحمـدشـبـیرقـادری سحرؔاورنگـ آبادی ـ

0 Comments