جـنـگ میں ملتی ہیں فــتحـــیں آہنی تلـوار سے
دل کے فـاتح لــوگ بنتے ہیں حسیں کـــردار سے
مشک و عنبـر خود ہی بتلادیں گے اپنی اصلیت
ان کے بـارے میں بھلا کیوں پوچھیے عطـار سے
ان کے جاتے ہی مســلــط ہــوگـــئیں ویــرانـیاں
خوف و وحشت اب جھلکتے ہیں درودیـوار سے
مـحمـدشـبـیرقـادری سحرؔاورنگـ آبادی

0 Comments