دوا

دوا تو ہے

میری کشتی کا ناخدا تو ہے
یعنی میری بقا، فنا،  تو ہے 

تیرے آنے سے جھوم اٹھتا ہوں 
خوشنما، خوشنما ہوا تو ہے

جس کو سن کر سکونِ قلب ملے
ایسی راحت فزا صدا تو ہے

تیرے ہراک مرض کا میں ہوں علاج 
میرے ہر درد کی دوا تو ہے 

تجھ کو اب تک سمجھ نہیں پایا
جانے اللّٰہ ہی کہ کیا تو ہے 

خوف کیوں تجھ کو تنگدستی کا
مالکِ کل کا جب گدا تو ہے

کیوں جھگڑتی ہے تو سحرؔ سے بھلا
زندگی اس سے کیوں خفا تو ہے




0 Comments