خونِ تبریز ایسا لائے رنگ


خونِ تبریز ایسا لائے رنگ
روشنائی بنے، لکھے فرہنگ 

منصفان جہاں جسے پڑھ کر 
ہوئیں سر گردان، ہکابکا، دنگ 

جس سے سوئی یہ قوم، جاگ پڑے 
جس سے انسانیت ہو حق آہنگ 

جس سے باطل کا دل لرز اٹھے 
جس سے حیوانیت پہ برسے سنگ

جس سے مظلوم کی حفاظت ہو
ظلم کی آبرو ہو ننگ بھجنگ

حادثوں سے سہی، ہو کچھ احساس 
کاش غفلت کا دور ہو اب زنگ

 اے مسلمانو!تم ہو حق کی  فوج 
تم سبھی مصطفیٰ کے ہو سرہنگ

جنگ بہتر نہیں سحرؔ لیکن 
کرنی ہوگی تمہیں دفاعی جنگ

0 Comments