*★حالیہ الکشن اور ہم★*




يہ مانا مودی جیسا روسیاہ، اپنا نہیں ہے 
جو آ، سکتا تھا وہ بھی خیرخواہ اپنا نہیں ہے 

رعایا ساری اپنی ہے تو پھر  ہنگامہ کیوں ہو؟
وزیر اپنا نہیں ہے،  جاں پناہ اپنا نہیں ہے

ہمیشہ کے لیے ہے احکم الحاکم وہ بےشک 
ذرا بتلائیں،  کیا بار ِ  الٰہ اپنا نہیں ہے؟

خدا کی ہم رعایا ہیں خیال اس کا تھا ہوتا 
مگر باقی  یقیں ایسا  اب آہ اپنا نہیں ہے 

ہمیں کس بات کا ڈر ہو، ذرا سمجھیں تو اس کو 
تمام حاکم کا حاکم بادشاہ اپنا نہیں ہے ؟

ہمیں ڈرنا ہے تو اللّٰہ سے ڈرنا ہے بس، کیوں ؟
اسی کے حق میں کیا اکثر گناہ اپنا نہیں ہے ؟

ہم آپ اپنے ہیں  کتنے اب ؟ کبھی سوچا نہیں کیا
کہ حال اپنوں سے، اپنوں کا، تباہ اپنا، نہیں ہے ؟

خداﷻ کا نور ہے دینِ رسول اللّٰہﷺ بے دھبا 
لگائے اس پہ جو نقطہ سیاہ اپنا نہیں ہے

نہ کیوں آئے گا اندھیرا بتائیں تو ذرا یہ 
اجالوں سے جو اب ہوتا نباہ اپنا نہیں ہے 

ہمارے خواجہ ء ہندالولی ہیں راجہ، جب تو
کبھی خطرے میں آتا عز و جاہ اپنا نہیں ہے

کُلاہِ عجز باقی ہے  شناخت اپنی ابھی تک 
غرور و کبر والا کج کُلاہ اپنا نہیں ہے 

بنی ہے کائنات، انسان کی خاطر ہی پوری 
کسی کو کیوں کہیں ہم خواہ مخواہ اپنا نہیں ہے

سحر سنت خدا کی "جیسے کو تیسا" سنادے
ہم ہیں بگڑی رعایا ، بادشاہ اپنا نہیں ہے


از✒️شبیر سحر اورنگ آبادی




0 Comments