وہ مجھ سے ہی کٹ کٹ کے سفر کاٹ رہا تھا
مظلوم کو کٹ جانے کا ڈر کاٹ رہا تھا
ظالم تھا کہ انصاف کا سر کاٹ رہا تھا
میں جس کے لیے قافلوں سے ربط تھا کاٹا
وہ مجھ سے ہی کٹ کٹ کے سفر کاٹ رہا تھا
میں سر پہ بٹھایا تھا جسے پیش بنا کر
وہ کر کے مجھے زیر و زبر کاٹ رہا تھا
یوں کاٹنا فرقت کے یہ ایام ترے بن
بالکل نہ تھا آسان مگر کاٹ رہا تھا
کٹ جاتے اسے دیکھتے گر طائرِ شب رنگ
پریوں میں جو کہ عمر کے پر کاٹ رہا تھا
صیاد کی الفت میں قفس تھا مجھے منظور
پر بھاگ گیا کیوں کہ وہ پر کاٹ رہا تھا
وہ آیا میسر ہوا تسکینِ دل و جاں
ورنہ مجھے اپنا ہی یہ گھر کاٹ رہا تھا
پیغامِ محبت کو عروج اس نے دی ورنہ
انسان ہی انسان کا سر کاٹ رہا تھا
کٹتا تھا شب و روز کا حیرت سے کلیجہ
یوں شامِ غم آلود، سحرؔ کاٹ رہا تھا


0 Comments