عید قرباں کا پیغام
عیدِ قرباں کا چاند دکھتے ہی
ہم کو قربانیوں کی فکر ہوئی
یہ عمل جو کہ ہے بَراہیمی
امت مسلمہ پہ فرض ہوئی
مظہر، ایثار و جانفشانی کا
ظاہرہ ہے، یہ مسلمانی کا
سارے چہروں پہ ہے خوشی کی دھنک
چشمِ احباب میں سہانی چمک
ہےبڑے بوڑھوں میں وفا کی دھمک
اور بچوں کی نغمگی کی چہک
خوشنمائی ہی خوشنمائی ہے
شادمانی ہی شادمانی ہے
کوئی بکری تو کوئی بکرا لیا
بیل کوئی تو کوئی بچھڑا لیا
بھینس کوئی تو کوئی بھینسا لیا
اونٹ کوئی تو کوئی دنبہ لیا
تین دن تک خوشی منائیں گے
بانٹ مل کر ذبیحہ کھائیں گے
شاداں شاداں مزے اڑاتے ہیں
عید گاہ سب کے ساتھ جاتے ہیں
ہم نہ بس ہاتھ ہی ملاتے ہیں
سب کو اپنے گلے لگاتے ہیں
تابکے خوشیاں؟ تین دن ہی فقط ؟
سوچیے کچھ تو کر رہے ہیں غلط؟
خوں بہائم کا کس کو ہے مطلوب ؟
حق تعالیٰ کو یہ نہیں مرغوب
لحم و دم ہی فقط نہیں محسوب
مع پرہیزگاری کے ہے محبوب
پڑھیے قرآن کہہ رہا ہے خدا
چاہتا ہے وہ آپ سے تقویٰ
یعنی ہم جانور کے ذبح کے ساتھ
ذبح کردیں سبھی برے حالات
نورِ اعمال کی بھی ہو برسات
تاکہ چھٹ جائے سایۂ ظلمات
جہل یکسر ہی کاٹنا ہوگا
علم و عرفان بانٹنا ہوگا
آؤ ہم نفرتوں کو ذبح کریں
الفتوں کے امین تاکہ بنیں
بعض و کینہ سے سینہ دھو ڈالیں
عشق و الفت، وفا کا مالا جپیں
ذبح کردیں کدورتوں کو ہم
صاف ستھرا کریں دلوں کو
آؤ وعدہ کریں یہ مل کر ہم
اونچا رکھیں گے امن کا پرچم
رت خوشی کی یا غم کا ہو موسم
حکم اسلام پر عمل پیہم
قطع رحمی کو ذبح کر ڈالیں
تا صلہ رحمی کچھ نبھا پائیں
عجب و کبر و تکبر استکبار
کردیں قلعہ انا کا اب مسمار
توڑ دیں ہم سبھی بت پندار
ہم کریں گے یہ گرچہ ہے دشوار
عصمتِ امت وفا کےلیے
مرکزِ عشق مصطفیٰ کےلیے
خون آلودہ ہرسو منظر ہے
ظالم وقت اپنے سر پر ہے
ایسے گھٹ گھٹ کے جینا بدتر ہے
یوں زندگی سے تو موت بہتر ہے
کامیاب اتحاد کر جائیں
ورنہ بہتر ہے اس سے مر جائیں
چند روزہ نہیں ہمیشگی کے لیے
مسلمانوں کی بہتری کےلیے
فاطمہ کےلیے علی کےلیے
اپنے اللّٰہﷻ اور نبیﷺ کےلیے
اختلافات کو پرے رکھ کر
ہم جیئیں گے تو متحد ہوکر
0 Comments