جن پہ ہم جاں نثار کرتے تھے



جن پہ ہم جاں نثار کرتے تھے 
وہ تو غیروں سے پیار کرتے تھے 

دشمنوں کے مشیر نکلے وہ
جن پہ ہم اعتبار کرتے تھے 

دور جاتے تھے پاس آآ کر
اس طرح بےقرار کرتے تھے 

اپنے دامن کو صاف کرنے کو
دامنیں داغدار کرتے تھے 

مہربانی کے پیٹھ پیچھے وہ
ظلم کا کاروبار کرتے تھے 

بیج بو کر خزاؤں کا بےجا 
آرزوئے بہار کرتے تھے 

جن سے ان کو سحرؔ منع کرتا 
وہ وہی بار بار کرتے تھے 

۲/نومبر ۲۰۱۷ء

0 Comments