آگیا موسمِ حج کعبہ دکھائے کوئی
ہجرِ طیبہ کی مسافات مٹائے کوئی
کوئی رو رو کے وضو پر کیے جاتا ہے وضو
ہاں! زیارت کی نماز آکے پڑھائے کوئی
چل بلاتے ہیں شہنشاہِ مدینہ تجھ کو
کاش یہ مژدۂ جاں بخش سنائے کوئی
تاب دیدار نہیں ماتھے کی آنکھوں میں اگر
دل کی آنکھوں سے سہی طیبہ دکھائے کوئی
تابکے ظلم، غریبی کا سہے یہ عاشق
اس تعلق سے انہیں جاکے بتائے کوئی
ربط کیسا ہے خدا جانے ہے کتنا گہرا
جرم تو کوئی کرے اشک بہائے کوئی
ان کا پیغامِ حضوری جو یاں لیکر آئے
اب فرستادہ حق ایسا بھی آئے کوئی
ہیں سحرؔ رشکِ جناں مکہ مدینہ پھر کیوں
دوزخ ہجر میں یوں خود کو جلائے کوئی
0 Comments