"ع خود اپنی حقیقت سے بیزار کیوں ہو"
کسی کی بےجا تعظیم و تذلیل سے نہ تو احساسِ برتری کا شکار ہوں نہ احساسِ کمتری میں گرفتار ہوں یہی شعور و آگہی آپ کی شخصی لیاقت کی آبرو ہے ۔۔۔۔۔۔۔ من آنم کہ من دانم ہم آپ وہی ہیں جو خود جانتے ہیں لہٰذا اس معتدل حالت کے برخلاف دونوں منفی فکریں شخصیت کو کند چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عزت و ذلت کے اتار چڑھاؤ سے متآثر نہ ہوکر باطل کی محفلوں پر لرزہ ڈالنے کی تاثیر پیدا کریں کہ یہی آپ کا کمال ہے ۔ بقولِ علامہ
ع محفل گداز گرمئ محفل نہ کر قبول
۔۔۔۔۔ اگر آپ حقیقت پسندی کو اپناتے اور مقتضائے حقیقت کو بروئے کار لاتے ہوئے شب و گزارنے لگ جائین تو پھر آپ کی سیرت کے ہر روز روز عید اور ہر شب شبِ برات ہوگی. شخصیت سنور جائے گی اور ان شاء اللہ آپ سے ایک عالم نکھر جائے گا۔
لہٰذا پہلے آپ اپنے آپ سے کو بنائیں.
آپ بننے میں مگن رہ باقی یک ساعت نہ ہو
دوسروں کی عیب جوئی کی تمہیں فرصت نہ ہو
مشتری سیرت بنو گر صورتا زہرہ نہیں
دل میں کرلو اے سحر صدق و حقیقت جاگزیں

0 Comments