{ تبھی نگاہِ عشق میں وہ جچ سکا }
فسونِ کربِ عشق سے نہ بچ سکا
وہ بےخودی میں ناچا جتنا نچ سکا
سکوتِ قلب ٹوٹنے کا شور ہائے !
کہ حشر میں بھی اسقدر نہ مچ سکا
نکارتوں کا ہاضمہ رہا خراب
ذرا بھی رمزِ معرفت نہ پچ سکا
جوجسمِ شاہ پر چڑھا لباسِ فقر
تبھی نگاہِ عشق میں وہ جچ سکا
ہوئے ہیں حادثے اگرچہ ایک دو
مگر اثر سے کوئی بھی نہ بچ سکا
اجالا اتنا ہی وہ پا سکا سحرؔ
سیاہ شب کو جتنا وہ کھرچ سکا
۲۹/جون۲۰۱۹ء
محمد شبیر قادری

0 Comments