دل کی تختی پہ جو اس کی تحریر ہے
اپنی گردن جھکا کر چھپا کر پڑھیں

اپنی صورت ہے جب صورتِ یار پر
آؤ چہرے کو مصحف بنا کر پڑھیں 

شبیر سحر